عراق میں امریکی بمباری میں ہمارا کوئی کردار نہیں: اردن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب شام اور عراق میں امریکی بمباری میں اردن بنے بھی حصہ لیا تھا۔

اردن کی مسلح افواج کی جنرل کمان کے ایک عسکری ذریعے نے ہفتے کو ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ رائل اردن کی فضائیہ نے عراق پر حملوں میں حصہ نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے اندر امریکی جنگی طیاروں کی کارروائیوں میں اردنی شمولیت کے بارے میں گردش کرنے والی اخباری خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اردن کی فوج عراق کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے"۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ اس نے عراق اور شام دونوں میں کامیابی کے ساتھ ایرانی فورسز اور تہران کے وفادار گروپوں کو نشانہ بنانے کے لیے جوابی حملے کیے ہیں۔

رائل ایئرفورس کا F-16 طیارہ

کچھ میڈیا ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ اردن رائل ایئرفورس سے تعلق رکھنے والے F-16 طیاروں نے کل رات امریکہ کی قیادت میں فضائی حملوں میں حصہ لیا تھا۔

غالباً یہ ڈرون حملے کا ردعمل تھا جو جنوری کے اواخر میں اردن کی سرحد پر واقع ایک امریکی اڈے پر "ٹاور 22" پر کیا گیا تھا۔

وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اہداف کی نشاندہی کے بعد اردنی طیارہ شامل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق اردن کی شمولیت شام کی سرحد کے قریب اردن کے ایک فوجی مقام ٹاور 22 پر ڈرون حملے کے بعد امریکہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

گذشتہ جنوری کے آخر میں امریکی سینٹرل ملٹری کمانڈ نےڈرون حملے میں ٹاور 22 میں 3 فوجی ہلاک اور 40 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں