غزہ جنگ بندی پر ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے: سینئر عہدیدار حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے ہفتے کے روز بتایا کہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے عارضی جنگ بندی کا تاحال کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

لبنان میں حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار اسامہ حمدان نے کہا، حماس کے رہنما اسرائیل، قطر، مصر اور امریکہ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے تیار کردہ مجوزہ فریم ورک کا جائزہ لے رہے ہیں۔

لیکن "اپنے مؤقف کا اعلان" کرنے کے لیے انہیں مزید وقت درکار تھا۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک نے "بارہا کہا ہے" کہ وہ "کسی بھی اقدام پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔۔ جو

ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف اس وحشیانہ جارحیت کو ختم کر دے۔"

اگرچہ حمدان نے تصدیق کی کہ گروپ کو پیرس میں ثالثین کی طرف سے تیار کردہ جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور یہ کہ اس منصوبے کی بعض تفصیلات موجود نہیں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا، جلد ہی "ہم اپنے مؤقف کا اعلان کریں گے جس کی بنیاد... ہماری یہ خواہش ہے کہ اس جارحیت کو جلد از جلد ختم کیا جائے جو ہمارے لوگوں کو درپیش ہے۔"

یہ جنگ حماس کے 7 اکتوبر کے حملے سے شروع ہوئی جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق اسرائیل میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

مزاحمت کاروں نے تقریباً 250 کو یرغمال بھی بنا لیا جن میں سے تقریباً سو کو نومبر کے آخر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران رہا کر دیا گیا۔ اسرائیل کہتا ہے کہ 132 یرغمالی غزہ میں باقی ہیں جن میں کم از کم 27 وہ اسیران بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ مر چکے ہیں۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں وزارتِ صحت کے مطابق جواب میں اسرائیل نے غزہ میں کم از کم 27,238 افراد کو ہلاک کر دیا ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ موجودہ تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی کی تجویز میں لڑائی میں ابتدائی چھ ہفتے کا وقفہ شامل ہے جس میں ممکنہ توسیع کے ساتھ فلسطینی قیدیوں کے بدلےکچھ یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

حمدان جن کی تحریک نے کسی بھی معاہدے سے قبل مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، نے حماس کی پوزیشن کو "مسخ کرنے" کے مقصد سے "اسرائیل کی غلط معلومات کی مہم" کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے کہا اسرائیل نے "جارحیت جاری رکھنے کے لیے۔۔ اب تک کیے گئے تمام اقدامات کو مسترد کر دیا ہے۔"

حمدان نے کئی ممالک کے فیصلے پر بھی تنقید کی جنہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (اونروا) کے لیے مالی امداد معطل کر دی کیونکہ 7 اکتوبر کے حملوں میں اس کے مٹھی بھر ملازمین کے ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا۔

انہوں نے اسے صہیونی جھوٹ اور اجتماعی سزا پر مبنی ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن آئندہ دنوں میں ایک بار پھر شرقِ اوسط کا دورہ کریں گے تاکہ ایک معاہدے پر زور دیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں