اسرائیلی فوج کی قید میں45 دن،فلسطینی ڈاکٹررہائی کے بعد بھی اہلیہ اوربچوں سے نہ مل سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انہیں اس وقت غزہ میں گرفتار کیا جب فوج نے ایک ہسپتال پر چڑھائی کی اور پھر 45 دن تک غیرقانونی طور پر مغوی بنائے رکھا۔ ان 45 دنوں میں نہ انہیں سونے دیا اور نہ انہیں باہر دیکھنے کی اجازت دی حتیٰ کہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھے رکھی اور یہ سلسلہ پچھلے ہفتے ان کی رہائی تک جاری رہا۔

ڈاکٹر سعید عبدالرحمن معروف غزہ شہر کے الاہلی العرب ہسپتال میں کام کرتے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس ہسپتال کا ماہ دسمبر میں محاصرہ کیا تھا۔ ڈاکٹر معرعف نے بتایا کہ ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے اور 7 ہفتے تک تقریباً ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی۔ آنکھوں پر پٹی باندھنے اور ہاتھوں اور پاؤں سے باندھے رکھنے کا یہ سلسلہ ان کی رہائی تک جاری رہا۔

انہیں کہا گیا کہ پتھروں پر سو کر اپنی نیند پوری کرلیں جبکہ ان چھبنے والے پتھروں پر کوئی گدا بھی موجود نہیں تھا۔ حتیٰ کہ سردی کی راتوں میں بھی اسی طرح سونے کے لیے کہا جاتا تھا۔ اس دوران کمرے میں اونچے آواز میں میوزک بجانا شروع کر دیا جاتا تاکہ میں شور سے سو نہ سکوں۔

اسرائیلی فوج نے ڈاکٹر کے ساتھ اس سلوک کے بارے میں اپنا مؤقف دینے یا تبصرہ دینے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بعد میں اس بارے میں اپنا مؤقف دے گی۔ اس سے قبل فوج نے ڈاکٹر کی گرفتاری کے بارے میں واقعات کی تردید کی تھی اور الٹا حماس پر الزام لگایا تھا کہ حماس ہسپتالوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ جبکہ حماس ان الزامات کی ہمیشہ تردید کرتی رہی ہے۔

ڈاکٹر معروف نے کہا اسرائیلی جیل میں تشدد بہت سخت تھا۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں، جب میں گرفتار نہیں ہو اتھا تو میرا وزن 87 کلو گرام تھا لیکن اب رہائی کے بعد میرا وزن 25 کلو گرام کم ہوگیا ہے۔ میری ذہنی حالت یہ ہے کہ میں اپنی توجہ کسی ایک چیز پر مرکوز نہیں کر پاتا اور اب میں چیزوں کو محسوس نہیں کر پاتا۔

اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے ڈاکٹر نے کہا جب تک کوئی اسرائیلی قید اور تشدد کے مرحلے سے براہ راست نہیں گزرتا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ اسرائیلی فوج کا رویہ کس قدر تشدد پسندانہ، توہین آمیز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ہوتا ہے۔ جیسا کہ مسلسل قید کے دوران آنکھوں پر پٹی بندھے رہنے کی وجہ سے وہ نہیں جانتے کہ اسے کہاں رکھا گیا، کس شہر میں اور کس جیل میں رکھا گیا۔ یہ ایک خوفناک اور تکلیف دہ واقعہ تھا جو مجھ پر مسلسل گزرتا رہا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر معروف کو 45 دن کی قید کے بعد بالآخر رہائی تو ملی مگر انہیں اسرائیلی سرحد پر واقع کرم شالوم راہداری پر جا کر چھوڑ دیا گیا۔ جہاں سے انہیں بین الاقوامی صلیب احمر نے واپس آنے میں مدد دی۔

ڈاکٹر معروف رہائی کے بعد بھی ابھی تک اپنے خاندان کے ساتھ رابطے میں نہیں آسکے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ ان کا خاندان کہاں اور کس حال میں ہے۔ آیا خاندان کے لوگ زندہ بھی ہیں یا اب وہ زندہ نہیں رہے کیونکہ ڈاکٹر معروف کی قید کے دنوں میں ہونے والی بمباری نے پورے غزہ میں تباہی پھیلا کر تقریباً ہر چیز کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر معروف کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی گرفتاری سے ذرا پہلے اپنی بیٹی سے اس وقت آخری بار بات کی تھی جب اسرائیلی فوجیوں نے ہسپتال پر دھاوا بولا اور تمام ڈاکٹروں و طبی عملے سے کہا کہ وہ ہسپتال کی بلڈنگ خالی کر دیں۔

ڈاکٹر معروف کی بیٹی اپنی والدہ اور چار بہن بھائیوں کے ساتھ غزہ میں اس وقت اپنے گھر پر ہی تھی جبکہ ڈاکٹر معروف کے خاندان کے تقریباً 20 دوسرے لوگ بھی ابھی غزہ میں ہی ان کے ساتھ رہتے تھے۔

اس وقت ڈاکٹر سے بات کرتے ہوئے بیٹی نے کہا 'ابو بمباری ہمارے قریب تک پہنچ چکی ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟' اس پر ڈاکٹر نے بتایا کہ ' بیٹی کو یہ کہنا کہ یہیں رکو تو اس کا مطلب تھا کہ بمباری سے ہلاک ہو سکتے تھے اور کہتا کہ نکل جائیں تو بھی ہلاکت کا خطرہ موجود تھا۔ یہ میرے لیے بڑا تکلیف دہ مرحلہ تھا کہ میں انہیں کوئی مشورہ دے سکتا تھا نہ ان کی مدد کر سکتا تھا۔'

ڈاکٹر معروف نے کہا 'مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ اگر گھر میں رہنا چاہو تو رکے رہو اور اگر گھر کو بمباری کے خؤف سے چھوڑنا چاہو تو گھر کو چھوڑ دو کہ میں اس وقت اسرائیلی فوج کی حراست میں ہوں اور مجھے خود نہیں پتا کہ میرا مستقبل کیا ہے۔'

ڈاکٹر نے روتے ہوئے کہا ' اس لمحے سے لے کر آج تک مجھے نہیں پتا کہ میرے بچے اور اہلیہ کہاں ہیں۔ میں کچھ نہیں جانتا۔'

ڈاکٹر معروف کا کہنا ہے کہ وہ ان 100 لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں اس روز ہسپتال سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ سب اسی طرح کی کیفیات سے گزر رہے ہیں۔ اب ان میں سے ہر کوئی اپنے لیے موت کی خواہش رکھتا ہے کہ جس اذیت سے وہ گزر رہا ہے اس سے بچ سکے۔

ڈاکٹر نے کہا 'میں بچوں کا ڈاکٹر ہوں اور پچھلے 23 سال سے اسی میدان میں کام کر رہا ہوں۔ اس عرصے میں میں نے کبھی انسانوں کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا۔ میرا قلم میرا ہتھیار ہے۔ اسی طرح میری نوٹ بک اور میرا 'سٹیتھوسکوپ' میرا ہتھیار ہے۔ میں نے ہسپتال نہیں چھوڑا تھا تاکہ میں سہپتال میں بچوں کا علاج کر سکوں۔'

ڈاکٹر معروف اب رہائی کے بعد اپنے اہل خانہ اور بچوں سے تو نہیں مل سکے لیکن وہ ہسپتال میں موجود ہیں تاکہ وہ ہسپتال میں آنے والے زخمی بچوں کا علاج کر سکیں۔ واپسی پر انہوں نے اپنے ہتھیار 'سٹیتھوسکوپ،' قلم اور نوٹ بک پھر سنبھال لی ہے۔ لیکن بچوں اور اہلیہ کی یاد کی وجہ سے کبھی کبھی اچانک ان کے آنسو بہہ نکلتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں