اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی روکنے کے لیے امریکہ نے کوششیں تیز کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی اخبار "ہارٹز" نے اتوار کے روز کہا کہ امریکی ایلچی آموس ہاکسٹین اپنے موجودہ دورہ اسرائیل کے دوران وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، جنگی کونسل کے وزیر بینی گینٹز اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے، تاکہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کو روکنےلیے ایک موثر بندو بست تک پہنچا جا سکے۔

گذشتہ سات اکتوبرکوغزہ کی پٹی میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایک طرف اسرائیلی فوج اور دوسری طرف لبنان میں حزب اللہ گروپ اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان تقریباً روزانہ سرحد پار سے گولہ باری ہوتی ہے۔

گذشتہ روز حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اپنے دو ارکان کی ہلاکت کا اعتراف کیا۔ جنوبی لبنان سے کئے جانے والے حملوں کے نتیجے میں اکثر شمالی اسرائیل کے قصبوں میں سائرن بجائے جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان دانیال ہاگاری نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ان کے ملک نے اکتوبر میں غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے شام میں حزب اللہ کے 50 اور لبنان میں 3,400 اہداف پر حملے کیے ہیں۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی بمباری
جنوبی لبنان پر اسرائیلی بمباری

ہاگاری نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ہم شام کے مختلف حصوں میں اس نوعیت کے 50 سے زیادہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر زمینی اور فضائی حملے کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کے خلاف اسی طرح کے 3,400 سے زیادہ حملے کیے گئے، ان حملوں میں 200 "سرکردہ دہشت گرد" مارے گئے۔

7 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے لبنان-اسرائیلی سرحد پر تقریباً روزانہ بمباری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

حزب اللہ باقاعدگی سے سرحد پراسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتی ہے۔ اسرائیل سرحدی علاقوں میں حزب اللہ اور اس کے جنگجوؤں کے "انفراسٹرکچر" پر بمباری کرکے جواب دیتا ہے۔

لبنان میں حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 218 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے زیادہ تر حزب اللہ کے جنگجو اور کم از کم 26 عام شہری تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں