امریکی جوابی کارروائی کےچند دن بعدشام میں امریکی اڈے پرحملےمیں کم ازکم چھ جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مشرقی شام میں امریکی فوجیوں کی رہائش والے فوجی مرکز پر ڈرون حملے میں اتوار کو تادیر چھ اتحادی کرد جنگجو مارے گئے۔ شام یا عراق میں یہ پہلا اہم حملہ ہے جب سے امریکہ نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے خلاف جوابی حملے شروع کیے ہیں جو خطے میں اس کی افواج کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

امریکی حمایت یافتہ اور کردستان کے زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے کہا کہ پیر کو اس حملے میں شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں العمر بیس پر ایک تربیتی میدان کو نشانہ بنایا گیا اور اسے انجام دینے کا الزام "شامی حکومت کے حمایت یافتہ کرائے کے فوجیوں" پر لگایا گیا۔

امریکی فوجیوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کے ایک چھتری گروپ نے جسے عراق میں اسلامی مزاحمتی تنظیم کا نام دیا گیا ہے، نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی اور انہیں کسی نامعلوم مقام سے ڈرون لانچ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

جنوری کے آخر میں اسی گروپ کے ڈرون حملے میں اردن کے ایک صحرائی فوجی مرکز پر تین امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ امریکی فوج نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروپوں کو نشانہ بناتے ہوئے درجنوں جوابی حملے کیے اور یمن میں حوثیوں کو بھی نشانہ بنایا۔

چھتری گروپ نے عراق اور شام میں امریکی فوجی مراکز اور فوجیوں پر درجنوں ڈرون حملے کیے ہیں اور دونوں ممالک سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب شرقِ اوسط میں اسرائیل-حماس جنگ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے جو 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کی ہنگامہ آرائی سے شروع ہوئی تھی۔

دریں اثناء برطانیہ میں مقیم حزبِ اختلاف کے جنگی مانیٹرنگ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ اتوار کو ہونے والے حملے میں ایس ڈی ایف کے کم از کم سات جنگجو مارے گئے اور کم از کم 18 دیگر زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ہلاک شدگان میں کوئی امریکی فوجی بھی شامل تھا۔

یہ حملہ امریکی فوج کی جانب سے شام اور عراق میں ایران سے منسلک مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر حملے کے دو دن بعد اتوار کو دیر گئے ہوا ہے۔

ایس ڈی ایف نے کہا اسے حملے کا جواب دینے کا حق ہے۔

امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اتوار کے روز چار بحری جہاز شکن میزائلوں کو مار گرایا جو یمن میں حوثی ملیشیا کے زیرِ قبضہ علاقوں سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر داغے جانے کے لیے تیار تھے۔

پیر کے اوائل میں ایک بیان میں امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ حملے اپنے دفاع میں اور فورسز کی جانب سے اس بات کا تعین کرنے کے بعد کیے گئے تھے کہ یہ "خطے میں امریکی بحریہ کے جہازوں اور تجارتی جہازوں کے لیے ایک فوری خطرہ تھے۔"

اتوار کے حملے امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے حوثیوں کے خلاف حملوں کی دوسری لہر شروع کرنے کے ایک دن بعد ہوئے جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ گروپ کی صلاحیتوں کو کم کرنا تھا۔ امریکہ اور برطانیہ نے کہا کہ انہوں نے حوثیوں کے 36 اہداف کو نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں