ایران امریکہ کشیدگی : امریکی مطالبے پر آٹھ عراقی بنکوں پر ڈالرز میں ڈیل کرنے پر پابند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی حکومت نے آٹھ مقامی بنکوں پر پابندی عاید کر دی ہے کہ وہ امریکی کرنسی کی ٹرانزیکشن نہیں کریں گے۔ یہ پابندی امریکی وزارت خزانہ کے ایک سینئیر افسر بریان نیلسن کے عراقی دورے کے بعد سامنے آئی ہے جو امریکی وزارت خزانہ میں پابندیاں لگانے والے شعبے سے وابستہ ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے اس ذمہ دار کی عراقی حکومت اور وزارت خزانہ میں ملاقاتوں کے بعد کے اس سامنے آنے والے نتیجے کو امریکہ کی وزارت خزانہ کی طرف سے سراہا گیا ہے۔ عراقی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ بنکوں میں فراڈ پر مبنی لین دین کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔

پابندی کے تحت اب یہ آٹھوں بنک عراق کے مرکزی بنک کے ساتھ ڈالروں کی ٹرانزیکشن کی سہولت سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس فیصلے کا مرکزی نکتہ ایران کو ڈالروں کی منتقلی روکنا ہے۔ اس سلسلے میں عراق کے مرکزی بنک کی ایک دستاویز بھی سامنے آگئی ہے۔

واضح رہے امریکہ اور ایران جو کبھی غیر معمولی اتحادی ، اس دور کے ایرانی ایک سو ارب ڈالر کے ایرانی ریزروز امریکہ کے پاس جمع ہیں جنہیں امریکہ نے ضبط کر رکھا ہے اور واپس کرنے سے انکاری ہے۔ ان دنوں عراق کو امریکہ کی خوشنودی کی ضرورت رہتی ہے۔ تاکہ اس کے تیل سے متعلق ذخائر اور رقوم تک رسائی میں دقتیں نہ آئیں۔

ان پابندیوں کی زد میں آنے والے بنکوں میں احسور بین الاقوامی بنک برائے سرمایہ کاری، عراقی بنک برائے سرمایہ کاری، کردستان بین الاقوامی اسلامی ترقیاتی بنک برائے سرمایہ کاری ، الھدیٰ بنک ، الجنوب بنک برائے سرمایہ کاری، عریبیہ اسلامی بن اور حمورابی کمرشل بنک شامل ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ کے ترجمان نے عراق کی طرف سے اس اقدام کی تعریف کی گئی ہے۔ نیز اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ عراقی مرکزی بنک اس سمت میں اقدامات جاری رکھے گا۔ تاکہ عراق کے بنکاری نظام کے غلط استعمال کی روک تھام ہو سکے۔

نجی بنکوں کے مشترکہ پلیٹ فارم نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یاد رہے جولائی 2023 میں عراق نے 14 بنکوں پر اسی نوعیت کی پابندیاں عاید کی تھیں۔ ان پابندیوں کا مقصد بھی دالر کی ایران کی طرف ترسیل کو ہر ممکن طریقے سے روکنا تھا۔ اب امریکی و عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت کا یہ تازہ اقدام بھی امریکی خواہش پر کیا گیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے سینئیر افسر بریان نیلسن کا حالیہ دورہ بغداد اسی سلسلے میں تھا۔ کہ عراقی بنکاری اور مالیاتی نظام کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے کیسے روکے رکھا جائے۔ جیسا کہ ان بنکوں کے بارے میں شکایات مل رہی تھیں کہ ان کی خدمات سے ایران اور اس کی حامی گروپ فائدہ اٹھارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں