ایران نےکون سے دو جہازوں پر بمباری کے حوالے سے امریکہ کو خبردار کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اتوار کے روز امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں دو جاسوس بحری جہازوں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے جن پر امریکیوں کو شبہ ہے کہ وہ ایرانی کمانڈوز کے لیے ایک فارورڈ آپریٹنگ بیس کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

یہ دھمکی آمیز بیان امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی بمباری کی مہم شروع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ایران کی طرف سے بہشاد اور ساویز جہازوں کے حوالے سے جاری کردہ بیان سے لگتا ہے کہ حالیہ دنوں میں عراق، شام اور یمن میں ہونے والے امریکی حملوں کے بارے میں تہران کی بڑھتی ہوئی تشویش کی نشاندہی ہوتی ہے، جن میں تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بہشاد جہاز
بہشاد جہاز

یہ حملے اردن میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور درجنوں دیگر کے زخمی ہونے کی انتقامی مہم ہیں اور ان سے علاقائی تنازعہ کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ہفتے کی شام امریکہ نے دارالحکومت صنعا سمیت حوثیوں کے زیر کنٹرول یمن کی چھ گورنریوں کے مقامات پر بمباری کی۔ حوثیوں نے نقصان کا کوئی تخمینہ فراہم نہیں کیا، لیکن واشنگٹن نے کہا کہ اس نے زیر زمین میزائل ہتھیاروں، لانچ سائٹس اور حوثیوں کے زیر استعمال ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان، بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے کہا کہ ان حملوں سے ملیشیا کی بحری جہازوں پر حملے جاری رکھنے کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے حملوں کے بعد حوثیوں کو خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اگر حوثی بین الاقوامی شپنگ ٹریفک اور سمندری جہازوں پر اپنے غیر قانونی حملے بند نہیں کرتے تو مزید نتائج بھگتنا پڑیں گے۔"

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "حوثیوں کے حملے بند ہونے چاہییں"۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بھی خبردار کیا کہ حملے جاری رہ سکتے ہیں۔ سلیوان نے ’سی بی ایس‘ کے 'فیس دی نیشن' کو بتایا کہ "ہم ہر اس چیز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جس سے کوئی بھی گروپ یا کوئی ملک ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے"۔

بہشاد اور ساویز بحری جہاز تہران کی ایک کمپنی کے ساتھ تجارتی مال بردار بحری جہاز کے طور پر رجسٹرڈ ہیں اور امریکی محکمہ خزانہ نے ان پر پابندیاں عائد کی ہیں کیونکہ ان کا تعلق ایرانی شپنگ لائنوں سے ہے۔

شاویز جو بعد میں بہشاد بن گیا یمن کے ساحل سے دور بحیرہ احمر میں برسوں تک تعینات رہا، جس پر ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے جاسوسی کی جگہوں کے طور پر کام کرنے کا شبہ تھا۔

شبہ ہے کہ یہ بحری اڈہ ہے اور پاسداران انقلاب کے لیے ہتھیاروں کی منتقلی کا مقام ہے۔ اس میں فوجی وردی پہنے ہوئے مرد تعینات ہیں۔ پچھلی ویڈیوز میں دکھایا گیا تھا کہ جہاز ڈیک پر نصب مشین گن سے لیس تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں