فلسطین اسرائیل تنازع

بین گویر کی امریکہ پر تنقید بارے نیتن یاہو کا جواب 'امریکہ نے جنگ میں بھر پور مدد کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کی جانب سے امریکہ پر تنقید کو نیتن یاہو نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے امریکہ نے غزہ جنگ میں ہماری بھر پور امداد کی ہے۔

بین گویر نے امریکہ پر یہ تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے اس جنگ میں اسرائیل کی مدد کے بجائے انسانی بنیادوں پر غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی باتیں جاری رکھیں۔

بین گویر جو کہ مغربی کنارے کی یہودی بستی میں مقیم ہیں اور یہودی آبادکاروں کو فلسطینیوں کے خلاف ابھارنے والوں میں سے ایک نے امریکہ کو اس واقعے کے بعد تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں امریکہ چار یہودی آباد کاروں کے تشدد میں ملوث ہونے پر انہیں پابندیوں کی زد میں لیا ہے۔ بین گویر مزید ناجائز یہودی بستیوں کے کٹر حامی ہیں اور اس سلسلے میں ایک منصوبے کے ساتھ حکومت میں شامل ہیں۔

واضح رہے مغربی کنارے میں لاکھوں یہودیوں کو مغربی ملکوں یا امریکہ سے لا کر بسایا گیا ہے۔ ان میں سے مبینہ طور پر بڑی تعداد فلسطینیوں پر حملوں میں رہتی ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں حالیہ چار ماہ کے دوران 370 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

امریکہ اور تقریباً تما مغربی دنیا مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی ان کارروائیوں کو اسرائیل کے لیے بھی خطرناک سمجھتے ہیں اور پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے بھی۔ مگر اب تک صرف 4 یہودی آباد کاروں پر پابندی کا امریکی اعلان بھی اسرائیل میں تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔

نیتن یاہو نے بھی امریکہ کی طرف سے 4 یہودی آباد کاروں کے خلاف پابندی کے خلاف بیان دیا ہے، تاہم انہوں نے غزہ جنگ میں امریکی مدد کے ہمہ وقت میسر رہنے کی تعریف کی ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکہ میں نئے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں یہ اسرائیل ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش میں ہے۔ یہ سلسلہ ماہ نومبر تک جاری رہ سکتا ہے۔ تاکہ دونوں پارٹیوں سے امداد کا امکان جاری رہ سکے۔

ایک لیڈر ٹرمپ کے حق میں اور دوسرا جوبائیڈن کے حق میں بول رہا ہے۔ اسی پس منظر میں بین گویر نے کہا 'اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ہوتی تو اس جنگ کے دوران امریکی رویہ کہیں زیادہ اسرائیل کے حق میں اور مختلف ہوتا۔' بین گویر نے یہ بات ایک اخباری مضمون میں کہی ہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس سے قبل ایک انٹرویو میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ' ہم امریکہ کی طرف سے جنگ کے دوران بھر پور مدد پر امریکہ کی تحسین کرتے ہیں۔' نیتن یاہو نے بھی دو ٹوک کہا کہ انہیں امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کے دوران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔'

یاہو نے مزید کہا ' ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان امور میں بھی جن پر امریکہ کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ ' واضح رہے اسرائیل میں امریکہ کو یہ دوہرا پیغام دینے کی کوشش اس وقت کی جا رہی ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا چار ماہ کے دوران پانچواں دورہ بس شروع ہوا ہی چاہتا ہے۔

امریکہ کی مدد سے اسرائیل کی غزہ میں جنگ کےچار ماہ مکمل ہونے والے ہیں اور اس دوران 27365 فلسطینی اسرائیل نے 23 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ میں 23 لاکھ افراد کو بے گھر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں