فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں حماس کے تربیتی مرکزپرچھاپہ،7 اکتوبر کےحملے کی تربیت کے لیےاستعمال کیا جاتاتھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس کی افواج نے غزہ میں حماس کے تربیتی مرکز پر چھاپہ مارا ہے جہاں مزاحمت کار 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کی تیاری کرتے رہے تھے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی علاقے کے مرکزی جنوبی شہر خان یونس میں واقع اس سہولت میں اسرائیلی فوجی مراکز کے ماڈل اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ ساتھ کبوتزم کے داخلی راستوں کی معلومات بھی موجود تھیں۔

فوجیوں نے حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ایک سینئر کمانڈر محمد السنوار کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا۔

وہ غزہ میں حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کے بھائی بھی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

فوج نے بتایا کہ خان یونس میں القادسیہ کمپاؤنڈ پر چھاپے کے دوران افواج کا کئی مزاحمت کاروں سے سامنا ہوا جنہوں نے ان پر فائرنگ کی۔

اس میں مزید کہا گیا کہ مزاحمت کاروں کو سنائپر فائر، ٹینک کی گولہ باری اور فضائی حملوں سے "غیر مؤثر" کر دیا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق حماس کے اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

مزاحمت کاروں نے 250 کے قریب افراد کو یرغمال بھی بنا لیا اور اسرائیل کہتا ہے کہ 132 یرغمالی ابھی غزہ میں باقی ہیں جن میں کم از کم 27 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مارے گئے ہیں۔

حماس کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل نے ایک بڑے فوجی حملے کا آغاز کیا تھا جس میں حماس کے زیرِ اقتدار علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں کم از کم 27,365 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں