فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اسرائیلی کارروائیاں بند ہونا ضروری ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں سماجی و اقتصادی حالات کو جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ جنگ زدہ غزہ کی تعمیر نو میں کافی وقت درکار ہوگا۔

اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی کے لیے ہونے والی کانفرنس UNCTAD میں اسرائیلی جنگ کے بعد سے غزہ میں ہونے والی اقتصادی اور سماجی تباہی کی ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے فوری بند ہونے کے باوجود غزہ کو جنگ سے پہلے کے اقتصادی و سماجی حالات میں واپس لانے کے لیے کئی دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی برادری کی امدادی کارروائیوں کے بغیر غزہ کی بحالی کے پروگرام میں کئی دہائیاں لگیں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں سال 2022 کی جی ڈی پی کی سطح کو بحال کرنے میں سال 2092 تک کا وقت لگے گا۔ خیال رہے بین الاقوامی امداد اور تعاون کے ساتھ 2007 سے 2022 کی اوسط شرح نمو 0.4 فیصد برقرار رہے تھی۔

غزہ ناقابل رہائش ہوتا جا رہا ہے

اسرائیل حماس جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی غزہ سنگین معاشی و انسانی حالات کا شکار تھا۔ غزہ میں 2 ملین سے زیادہ شہری دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقے میں مقید تھے۔ غزہ میں صاف پانی، سیوریج اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات کی شدید کمی تھی۔

اسرائیل حماس جنگ کے بعد غزہ کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ غزہ کی 85 فیصد آبادی بےگھر ہوگئی ہے۔ بے گھر ہونے والوں میں بچوں کی تعداد نصف ہے۔ خیال رہے جنگ سے پہلے بھی فلسطینی بچوں کا بین الاقوامی امداد پر انحصار تھا۔

غزہ میں موجود عمارتیں جو غزہ کی پٹی کا 18 فیصد تھیں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہو گئی ہیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں کی تعداد 37379 بنتی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی بحالی میں 56 سالہ قبضے اور 17 سالہ ناکہ بندی رکاوٹ ہے۔ غزہ میں جاری بحران کے حل کے لیے اسرائیلی جنگ کا خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کا اطلاق ہونا ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں