اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کی شدت پسندوں کی جگہ حکومت میں شمولیت کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان ابھی غزہ میں جنگ روکنے اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں مگر دونوں متحارب فریقی ابھی تک کسی اتفاق رائے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے بہ ظاہر حکومت کو اس میں مدد کی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے منگل کو ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے گذشتہ روز وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران پیشکش کی تھی کہ وہ غزہ کی پٹی میں قید اسرائیلیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مکمل کرنے میں مدد کے لیے انتہا پسندوں کی جگہ حکومت میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔

لیپڈ نے اسرائیلی ریڈیو 103 ایف ایم کے ساتھ ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ حکومت میں داخل ہونے کے ان کے مطالبے میں قومی سلامتی کے وزراء ایتمار بین گویر اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کی رخصتی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے نیتن یاہو سے کہا کہ میں قیدیوں کے معاہدے کوممکن بنانے کے لیے انتہا پسندوں کی جگہ حکومت میں شامل ہونے کو تیار ہیں‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں قیدیوں کی واپسی کے بغیر کوئی "فوجی فتح" نہیں ہوگی۔

نیتن یاھو کی عدم دلچسپی

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے انکشاف کیا کہ نیتن یاہو نے بین گویر اور سموٹریچ کو ہٹانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ وہ سموٹریچ اور بین گویر کو حکومت سے الگ کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ لیپڈ نے نیتن یاہو کی حکومت پر اسرائیلیوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "حکومت نے اپنے شہریوں کوتنہا چھوڑ دیا ہے اور ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو اپنے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت دے سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حکومت بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی صورت حال پر نہیں پہنچنا چاہیے تھا جہاں اسرائیلی شہریوں پر پابندیاں عائد کی جاتیں کیونکہ ہمیں غرب اردن میں آباد کاروں کی پرتشدد سرگرمیوں کی وجہ سے اسرائیل کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت چار اسرائیلیوں پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے پر پابندیاں عاید کی تھیں۔

قابل ذکر ہے کہ نیتن یاہو نے گذشتہ روز کہا تھا کہ تل ابیب قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے حماس کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گا۔
انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب ذرائع ابلاغ میں خبریں آئی تھیں کہ قطر، مصر ، امریکہ اور دوسرے ممالک کی کوششوں سے حماس اور اسرائیل ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں