اسرائیلی وزیر بین گویر کے بیٹے نے جوبائیڈن کو 'الزائمر' کا مریض بتاکر مذاق اڑیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے انتہا پسندی کی شہرت والے وزیر برائے سلامتی امور کا بیٹا بھی باپ کے نقش قدم پر امریکی صدر کا ناقد نکلا۔ بین گویر نے حالیہ دنوں میں مغربی کنارے کے چار یہودی آباد کاروں پر تشدد پسندی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث پابندیوں کا نشانہ بنائے جانے پر جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ٹرمپ کی تعریف کی کہ وہ صدر ہوتے تو اسرائیل کے ساتھ معاملہ مختلف ہوتا۔

ایتمار بین گویر نے اپنی تنقید میں یہ بھی کہا کہ جوبائیڈن نے اسرائیل کی مدد کرنے کے بجائے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدداد کے معاملات پر زیادہ زور دیا۔ تاہم وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ جنگ میں امریکی مدد کی تعریف کی اور کہا امریکہ نے ہماری بھرپور مدد کی ہے۔

اب بین گویر کے بیٹے شوویل بین گویر نے بھی اپنے غم و غصے کا اظہار امریکہ کے 81 سالہ صدر جوبائیڈن کو 'الزائمر' کا مریض کہہ کر اور ان کے بڑھاپے کا مذاق اڑا کر کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر کے بیٹے نے اس بیماری کو سوشل میڈیا پر جوبائیڈن سے منسوب کیا ہے اور سوشل میدیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ' یہ ضروری ہے کہ لوگوں میں آگاہی عام کی جائے کہ لازائمر کی بیماری سے ذہنی تنزل ہوجاتا ہے اور یادداشت متاثر ہوتی ہے۔' واضح رہے 'الزائمر' کی بیماری عام طور پر بوڑھے لوگوں کو ہوتی ہے جن کی یادداشت پر اثر پڑجاتا ہے۔

بعد ازاں بین گویر کے بیٹے کی 'ایکس' پر لگئی ہوئی پوسٹ ہٹا دی گئی جبکہ اسرائیلی وزیر نے معذرت کرتے ہوئے لکھا 'میرے محبوب بیٹے نے بہت سنگین غلطی کی ہے اور میں اس کے ساتھ گہرا عدم اتفاق کرتا ہوں۔'

بین گویر نے اپنی معذرت پر مبنی پوسٹ میں لکھا 'امریکہ ہمارا عظیم دوست ہے اور جوبائیڈن اسرائیل کے دوست ہیں۔ اس طرح کے توہین آمیز تبصروں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ میں اپنے بیٹے کے الفاظ پر معذرت کرتا ہوں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں