اسرائیل کا دعوی جھوٹ ہے ،رفح کراسنگ کوکرم ابوسالم منتقل کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں: مصر

اس سے قبل مصر نے رفح اور صلاح الدین سرحدی محور سے متعلق انتظامات کے وجود سے متعلق اسرائیلی الزامات کی تردید کی تھی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر نے ایک بار پھر اس دعوے کی تردید کی جو اسرائیلی میڈیا کی جانب سے رفح کراسنگ کو کرم ابو سالم منتقل کرنے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

مصر کے ایک سرکاری ذریعے نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ تل ابیب کی طرف سے رفح کراسنگ کو مصر اسرائیلی سرحد پر کرم ابو سالم کے علاقے میں سرحدی مثلث میں منتقل کرنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ، اسرائیلی چینل 13 نے اطلاع دی تھی کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت مصر کے ساتھ فرح سرحدی کراسنگ کو کرم سالم کے علاقے میں منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد قاہرہ حکام کو کراسنگ کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہ دینا اور اسرائیل کو حفاظتی چیکنگ کرنے کا اختیار دینا ہے۔

اس سے قبل مصر نے دونوں ممالک کے درمیان رفح اور صلاح الدین سرحدی محور کے حوالے سے انتظامات کے وجود سے متعلق اسرائیلی الزامات کی تردید کی تھی۔

قاہرہ نے تصدیق کی کہ رفح اور صلاح الدین محور کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ قریب آنے والے معاہدے یا محور میں کسی تکنیکی ذرائع کی تنصیب کے بارے میں جو کچھ گردش کر رہا تھا وہ غلط تھا۔

یہ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے جواب میں سامنے آیا تھا کہ مصر اور اسرائیل غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحدی انتظامات پر ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں۔

اخبار نے اسرائیلی آرمی ریڈیو کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ کے ساتھ مصری سرحد پر صلاح الدین محور پر اسرائیلی کنٹرول کی حد پر اختلافات کے درمیان قاہرہ کے ساتھ کئی ہفتوں سے بات چیت جاری ہے۔

آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ اگر مصر پورے منصوبے کی منظوری دے دیتا ہے تو سرحد کے نیچے سرنگ کو روکنے کے لیے زیر زمین دیوار کی تعمیر ممکن ہے۔

اس سے قبل، امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے مصری حکام کے حوالے سے خبر دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ قاہرہ نے صلاح الدین محور پر کسی بھی حملے اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کی کسی بھی لہر کے خلاف تل ابیب کو تنبیہ کی ہے۔

اس وقت ، قاہرہ نے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلانے پر سنجیدگی سے غور کیا اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ان سے بات کرنے کی متعدد کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں