اپنی ماں کی جان بچانے والے 12 سالہ سعودی بچے کے لیے اعزازو کرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پوری مہارت اور تدبر کے ساتھ ایک سعودی بچے نے دانشمندی اور ذہانت سے کام لے کر اپنی ماں کو یقینی موت سے بچالیا۔ بچے کی اس کامیابی پر سرکاری سطح پر بچے کو اعزازو اکرام سے نوازا گیا ہے۔

ہولناک واقعہ

سعودی ریڈ کریسنٹ اتھارٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو ایک 12 سالہ بچے عبدالسلام کی رپورٹ موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی ماں بے ہوش ہے اور پوری طرح جواب نہیں دے رہی ہے۔

میڈیکل ٹیم نے ضروری ہیلتھ پروٹوکول کو انجام دیا بچے کو گھرکی لوکیشن بھیجنے کو کہا گیا تاکہ ایمبولینس ٹیم ان تک پہنچ سکے۔

"عبدالسلام" نے درست اور پیشہ ورانہ طریقے سے مقام بھیج کر درخواست کا جواب دیا۔

تاہم بات یہیں نہیں رکی۔ ریسکیو ٹیم نے چھوٹے بچے سے کہا کہ وہ اپنی ماں کی سانس کی نالی کھول دے تاکہ وہ سانس لے سکے۔ اس نے حکم پر عمل کیا اور ماں کی سانسیں واپس آ گئیں۔

کال کے دوران جب مریضہ نے دوبارہ سانس لینا مکمل طور پربند کردیا، ریسکیو ٹیم نے بچے کو سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) کرنے کو کہا۔ اسے سینے کے دباؤ کا طریقہ سمجھاتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی ماں کا سینہ دبائے۔ جب تک اس کی سانسیں بحال نہ ہوں وہ ایسا ہی کرے۔

ایمبولینس کی ٹیم عبدالسلام اور ان کی والدہ کے گھر پہنچی اور پھر انہیں صحت کی ضروری دیکھ بھال مکمل کرنے کے لیے قریبی صحت مرکز میں منتقل کر دیا۔

بچے کےلیے اعزاز

قابل ذکر ہے کہ سعودی ہلال احمر اتھارٹی برانچ کے ڈائریکٹرجنرل محمد بن عبداللہ الشہری کی رہ نمائی میں مریض کی صحت کی جانچ کی گئی اور بچے "عبدالسلام الاحمری" کی میزبانی ہلال احمر میں کی گئی۔

عبدالسلام الاحمری کو عسیر کے علاقے میں ہلال احمر اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر میں مدعو کیا گیا اور اسے اپنے والدہ کی جان بچانے میں کامیابی پر اس کی عزت افزائی کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عبدالسلام نے کی کوشش ایک قابل تقلید کاوش ہے اور اس کے اس کام کو ٹریننگ کے پروگراموں میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی مشکل میں طبی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں