غرب اردن میں اسرائیلی آباد کاروں کی پر تشدد کارروائیاں روکنا ضروری ہے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانسیسی وزیر خارجہ سٹیفن سیجورن نے مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کی پر تشدد کارروائیوں کو روکنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے اس تشدد کو لازماً روکنا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے۔

سٹیفن سیجورن مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے پر آئے ہیں۔ وہ پیر کے روز اسرائیل میں تھے۔ جہاں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کو روکنے پر ایسے وقت میں زور دیا ہے جب امریکہ نے ان آئے روز کے پر تشدد واقعات کے بعد بالآخر چار اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ تاہم اس بارے میں بھی اسرائیلی رہنما سخت رد عمل ظاہر کر رہے ہیں۔

اسرائیلی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے چوتھے ماہ کے دوران پانچویں دورے پر پہنچنے سے پہلے ایسا رد عمل ظاہر کیا جائے کہ امریکی وزیر خارجہ کو ایک طرف مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک میں ایک سہولت ملے اور امریکہ کی کچھ ساکھ بچانے کا موقع فراہم کر سکے ۔ نیز امریکہ کے سامنے اپنی 'دو اور' کی حکمت عملی کے دباؤ کا ماحول پیدا کر سکے۔

اسرائیلی قیادت سمجھتی ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران وہ امریکہ کی دونوں متحارب جماعتوں سے اپنے حق میں زیادہ کچھ حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتی ہے۔ اس لیے جس قدر ممکن ہو امریکہ کی طرف سے چار یہودیوں کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کو تنقید کا نشانہ بنائے۔

واضح رہے مغربی کنارے میں امریکہ یورپ اور دیگر خطوں سے لا کر بسائے جانے والے یہودیوں کی کی مجموعی آبادی لگ بھگ پانچ لاکھ ہے۔ تاہم مغربی ملکوں کے علاوہ امریکہ کو بھی اپنے عوام کے سامنے اب بہت سارے سوالات اور اعتراضات کا سامنا ہے۔

اس پس منظر میں فرانس جس کے صدر نے چار ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اب اس کے وزیر خارجہ بر سرعام مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر تشدد روکنے کا کہنا پڑ رہا ہے، جہاں پونے چار ماہ کے دوران 370 فلسطینی ان یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں۔

سٹیفن سیجورن نے کہا ' کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے اور نقل مکانی کرنے کو قبول کیا جائے گا۔ یہ نقل مکانی خواہ غزہ سے ہو یا مغربی کنارے سے ہو قبول نہیں۔'

فرانسیسی اعلیٰ ترین سفارت کار نے اسرائیلی رہنماؤں کے فلسطینیوں کے خلاف بیانات میں جنگی جرائم کے مطالبے کی مذمت بھی کی۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا غزہ کا مستقبل مغربی کنارے سے الگ نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے ہمیں فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کرنا ہو گی۔

سٹیفن سیجورن نے اپنے الفاظ دہراتے ہوئے کہا ' غزہ فلسطینیوں کی زمین ہے۔' خیال رہے سیجرن پہلی بار بطور وزیر خارجہ اسرائیل اور خطے کے دورے پر آئے ہیں۔ انہوں نے غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی پر زور دیا اور دوریاستی حل کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سیاسی حل کے بغیر اس مسئلے کا کوئی بھی پائیدار حل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن ممکن ہو سکتا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں