امریکہ کی مدد سے 'اونروا' کو غزہ سے نکالنے کا اسرائیلی منصوبہ تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امن کے لیے خدمات کے باعث نوبیل انعام کے لیے نامزدگی پانے والے ادارے 'اونروا' کو برداشت کرنا اسرائیل کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔

اسرائیل اور اس کے اتحادی ملکوں کی طرف سے ' اونروا' کی مخالفت کے سبب غزہ میں رواں ماہ کے بعد انسانی بنیادوں پر جاری خدمت جاری نہ رکھ سکنے کا اعلان پہلے ہی کر چکا ہے۔ کہ اسرائیل کے تقریباً تمام بڑے اتحادی ملکوں نے 'اونروا' کے فنڈز روک رکھے ہیں۔

اسرائیل کی ' اونروا' کے خلاف جاری منصوبہ بندی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اس کو غزہ میں فلسطینیوں کے لیے خدمات انجام دینے کی وجہ سے اسرائیل اسے غزہ سے مکمل طور پر نکال کر اس کی جگہ اقوام متحدہ ہی کے دوسرے ادارے 'ورلڈ فوڈ پروگرام' کو کردار سونپنا چاہتا ہے۔

واضح رہے عالمی پروگرام برائے خوراک کا کردار 'اونروا' کے مقابلے میں محدود نوعیت کا ہے۔ جبکہ ' اونروا' پناہ گزینوں کے لیے ایک جامع پروگرام کے تحت خدمات انجام دیتا ہے۔

'اونروا' کی جگہ عالمی پروگرام برائے خوراک کو لانے کے لیے اسرائیل منصوبے اور کوششیں کا انکشاف خبری ادارے ' وائی نیٹ ' کے ذریعے سامنے آیا ہے۔

خبری ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس کام کو اپنے ذمہ لیا ہے کہ غزہ میں ' اونروا' کا عمل دخل ختم ہو جائے۔ اس کے لیے اسرائیلی وزارت خارجہ سفارتی سطح پر کوششیں کرے گی۔

وزارت خارجہ نے ایک ڈائریکٹر جنرل کی سطح کے افسر کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ایک ٹیم بنا کر اس منصوبے کو آگے بڑھائیں۔

وزارت خارجہ کا یہ منصوبہ سیاسی و سلامتی امور سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کو پیش کیا جائے گا۔ جو اس منصوبے کی مکمل منظوری دے گی۔

'وائی نیٹ' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل ' اونروا' کی جگہ یہ کردار عالمی پروگرام برائے خوراک اور امریکی ادارے 'یو ایس ایڈ' میں سے کسی ایک کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

اسرائیل کی 'اونروا' سے ناراضگی کے باعث اب تک امریکہ سمیت 18 ملکوں نے اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے لیے فنڈنگ روک رکھی ہے۔ اس کی وجہ اسرائیل کا یہ الزام بنا ہے کہ غزہ میں کام کرنے والے 13000 کارکنوں میں سے 12 نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں حماس کا ساتھ دیا۔

فنڈز 'اونروا' کے بجائے دوسرے ادارے کو منتقل کرنے کی کوشش

اس بارے میں اگرچہ اقوام متحدہ کی یا کسی اور ادارے کی تحقیقات ابھی سامنے نہیں ائی ہیں اور یہ الزام محض الزام ہے۔ البتہ منگل کے روز یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ اقوام متحدہ نے اس تنازعے پر ایک کمیشن قائم کر دیا ہے۔

امریکہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ امریکی کانگریس کو 'اونروا' کی امداد بند کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ہوگی۔ تاکہ مقبوضہ فلسطین اور غزہ میں یو این ایجنسی 'اونروا' کی خدمات بند کی جا سکیں۔

پریس بریفنگ کے موقع پر ویدانت پٹیل نے کہا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ اور سینیٹرز کے طرف سے بھیجے گئے بل میں 1.4 ارب ڈالر کی غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد شامل ہے۔ لیکن یہ خطیر رقم 'اونروا' کو نہیں دی جائے گی۔

امریکی نائب ترجمان نے کہا ' یہ ایک خطیر رقم ہے جو ہم انسانی زندگیوں کو بچانے کے لیے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ اس رقم کا فلسطینی شہریوں پر گہرا اثر ہوگا۔ ہم یہ رقم 'اونروا' سے دوسرے شراکت داروں کی طرف منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ غزہ کے لوگوں کی مدد کر سکیں۔'

یاد رہے 'اونروا' 30 ہزار سے زائد کارکنوں کے ساتھ 14 لاکھ 76 ہزاار 706 رجسٹرڈ پناہ گزینوں کے لیے خدمات انجام دے رہا ہے۔ 'اونروا' کے پلیٹ فارم سے پناہ گزینوں کے بچوں کے لیے 183 سکول اور 22 صحت مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

نیتن یاہو کا 'اونروا' کے خلاف منصوبہ

پچھلے ہفتے نیتن یاہو نے براہ راست کہہ دیا ہے کہ 'اونروا' کو بند کر دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بین الاقوامی برادری اور خود اقوام متحدہ کے لیے موقع ہے کہ وہ 'اونروا' کو بند کر دیں۔' وہ یہ بات اقوام متحدہ کے ملاقات کے آئے ہوئے ایک وفد سے کر رہے تھے۔

نیتن یاہو نے کہا 'اونروا' کی کوشش ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ایشو کو زندہ رکھے۔ اس لیے اگر غزہ کا مسئلہ حل کرنا ہے تو 'اونروا' کو یہاں سے ضرور نکالنا ہو گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں