اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روک دیے،اتھارٹی ملازمین کی تنخواہیں کاٹنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اتھارٹی نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو ماہ دسمبر کی تنخواہوں کی پوری ادائیگی نہیں کر پا رہی ہے۔ وجہ اسرائیل کا اتھارٹی کی ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی کو روک لینا ہے۔ اس لیے ملازمین کی تنخواہوں میں چالیس فیصد کٹوتی کی جارہی ہے۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے لیے اسرائیل کی جانب سے ٹیکسوں کی رقوم روکنے کے باعث یہ مسئلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔ اسرائیل جب چاہتا ہے یہ فنڈز روک لیتا ہے۔ آجکل اسرائیل نے غزہ میں جنگ کی وجہ سے روک رکھے ہیں۔ تاکہ فلسطینیوں کو ہر طریقے سے اذیت اور سزا دے سکے۔

فلسطینی اتھارٹی انتہائی محدود اختیارات رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ اپنے شہریوں سے ٹیکس بھی اتھارٹی وصول نہیں کر سکتی بلکہ اس کے لیے بھی اسے اسرائیلی محتاجی کا سامنا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی ڈونرز سے آنے والی رقومات بھی رکی ہوئی ہیں۔ اتھارٹی کے وزیر اعظم محمد شتیہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی مشکل مالی حالات سے دوچار ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بزالیل سموٹریچ ایک انتہا پسند یہودی جماعت کے نمائندہ ہیں ۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے حصے کے ایک ارب شیکل کی ادائیگی کرنے کے بجائے اس میں سے 600 ملین شیکل کی رقم روک رکھی ہے۔

اتھارٹی کو محدود تر اختیارات دیے گئے اور اس کی ٹیکس وصولی کا اختیار بھی اسرائیل کے پاس ہے۔ جس کا وزیر خزانہ جب چاہے اتھارٹی کے فنڈز روک لیتا ہے۔

اسرائیلی کے ان فنڈز کے روکے جانے سے فلسطینی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں کے مسائل کے علاوہ روز مرہ کی ضروریات، محکمہ صحت کی ورکنگ رک جاتی ہے اور پناہ گزینیوں کے علاوہ فلسطینی شہداء کے بچوں کو ادائیگیاں بھی رک جاتی ہیں۔

اسرائیل جسے بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے نے ایک طرف اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے ' اونروا' کے لیے فنڈنگ رکوادی ہے دوسری جانب اسرائیل وزارت خزانہ نے براہ راست فلسطینی اتھارٹی پرمعاشی حملہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل اور اس کی اتحادی طاقتیں اس میدان میں بھی متحد ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ صورت حال امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی اسرائیل کے غزہ جنگ کے دوران پانچویں دورے کے دنوں میں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے معاشی سنگینی بڑھ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں