الجھن میں مبتلا جوبائیڈن حماس کا نام بھول گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن اپنی بزرگی اور عمر رسیدگی کی وجہ سے باربار ایسا کچھ کر گذرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حرکات میڈیا کا موضوع بن جاتی ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی زبان پھسل رہی ہے۔ حالیہ گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے مجوزہ معاہدے پر حماس کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے بائیڈن کی ایک نئی غلطی سامنے آئی۔

بائیڈن نے کہا کہ "کچھ تحریک ہے اور میں نہیں چاہتا، میں نہیں چاہتا، مجھے اپنے الفاظ کا انتخاب کرنے دیں۔ کچھ تحریک ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے ردعمل آیا، لیکن..."

رپورٹر نے پوچھا کہ کیا آپ کی مراد "حماس " ہے؟۔ بائیڈن نے جواب دیا "ہاں، مجھے افسوس ہے، حماس"۔ پھر انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "لگتا ہے کہ معاملہ قدرے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ابھی مذاکرات ہو رہے ہیں"۔

"مجموعی طور پر مثبت"

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر طویل مذاکرات کے بعد قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے منگل کو کہا کہ ان کے ملک کو حماس کی طرف سے ہنگامی معاہدے کے حوالے سے"مثبت جواب" ملا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ رکی انٹونی بلنکن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے الشیخ محمد آل ثانی نے حماس کے ردعمل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ حماس نے پرامید پیغام دیا ہے تاہم ہمیں اس کی مزید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حماس کا ردعمل اسرائیل کو دےدیا ہے۔

قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کسی معاہدے تک پہنچنےکے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے اور ہم جلد از جلد کسی ڈیل تک پہنچنےکی کوشش کررہے ہیں۔

اس موقعے پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکہ ایک معاہدے کے فریم ورک پر حماس کے ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت غزہ میں طویل لڑائی بند کرنے کے بدلے میں حماس سے یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بدھ کو اسرائیل کا دورہ کریں گےاور اسرائیل میں حماس کے ردعمل پر بات کریں گے۔

بلنکن نے مزید کہا کہ "ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے، لیکن ہم اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے اور واقعی ضروری ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں