امارات میں بچوں کی پرورش اور کفالت سے متعلق قوانین جانیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ متحدہ عرب امارات میں بچوں کو گود لینے کی اجازت نہیں ہے، شہری اور غیر ملکی رہائشی جو ملک کے طے شدہ معیارات پر پورا اترتے ہیں وہ مختلف پروگراموں کے تحت بچوں کے رہنے کے اخراجات کو سپانسر کر سکتے ہیں۔

بچوں کے حقوق سے متعلق متحدہ عرب امارات کا قانون جو ودیمہ کے قانون کے نام سے بھی معروف ہے، کہتا ہے کہ ایک بچہ جو اپنے فطری خاندان سے محروم ہے، اسے رضاعی خاندان کے ذریعے یا اگر رضاعی خاندان دستیاب نہیں ہے تو سرکاری یا نجی سماجی بہبود کے ادارے میں متبادل نگہداشت کا حق حاصل ہے۔

تاہم صرف اماراتی شہری ہی بچے کی پرورش کے اہل ہیں۔

بچے کی پرورش کے لیے اہلیت کا معیار

  • رضاعی جوڑے یا خاندان کا مسلمان، اماراتی اور متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہونا ضروری ہے
  • ان کی عمر 25 سال سے کم نہ ہو
  • سرپرستوں کو اخلاقی پستی میں شامل جرائم یا برائی کا مجرم قرار نہ دیا گیا ہو
  • وہ متعدی بیماریوں یا نفسیاتی و ذہنی عوارض سے پاک ہوں
  • رضاعی خاندان کے پاس اپنے اہلِ خانہ اور رضاعی بچے کی مالی مدد کرنے کی اہلیت ہو
  • وہ بچے/بچی کے مناسب طریقے سے علاج اور پرورش کا وعدہ کریں اور اس کی صحت اور تندرستی کا خیال رکھیں

مطلوبہ دستاویزات

کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی وزارت (ایم او سی ڈی) متحدہ عرب امارات میں رضاعی نگہداشت کے پروگرام کی نگرانی کرتی ہے۔ پرورش کے خواہاں شہریوں کو ایم او سی ڈی کے ذریعے رضاعی والدین کی درخواست جمع کرواتے وقت درج ذیل دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔

  • اماراتی شناختی کارڈ کی کاپی
  • جوڑے کی ذاتی تصویر
  • والدین کی فیملی بک کی ایک کاپی
  • ان کے پاسپورٹ کی ایک کاپی
  • بیماری سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ
  • تنخواہ کا سرٹیفکیٹ
  • حسنِ سلوک کا سرٹیفکیٹ
  • گھر کی ملکیت کا ثبوت فراہم کرنے والے دستاویزات

کیا تنہا خواتین پرورش کر سکتی ہیں؟

متحدہ عرب امارات میں تنہا خواتین کو بچے کی پرورش کی اجازت ہے اگر وہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتی ہوں۔

  • خاتون مسلمان، اماراتی اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہو
  • اس کی عمر کم از کم 30 سال ہو
  • وہ بچے کی مالی مدد کرنے کے قابل ہو

ایم او سی ڈی کے علاوہ دیگر سرکاری ادارے بھی بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرتے ہیں بشمول ابوظہبی میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کا محکمہ، دبئی میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حکومت شارجہ کا سوشل سروسز ڈیپارٹمنٹ۔

اماراتی ہلالِ احمر اتھارٹی متحدہ عرب امارات کے اندر اور باہر یتیموں کی کفالت کے پروگراموں میں بھی سہولت فراہم کرتی ہے اور زکوٰۃ فنڈ یتیموں کے خاندانوں کی کفالت کے لیے ایک ’یتیم بچوں کا پروجیکٹ‘ چلاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں