فلسطین اسرائیل تنازع

جنگ پانچویں مہینے میں داخل، جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت کے لیے بلنکن اسرائیل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن بدھ کے روز اسرائیل میں تھے جہاں ان سے توقع تھی کہ وہ "ضروری" جنگ بندی کے معاہدے کے لیے دباؤ ڈالیں گے جبکہ حماس کے ساتھ جنگ پانچویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔

پہلے سعودی عرب، مصر اور قطر میں قیام کے بعد سفارت کار کو شرقِ اوسط بحران کے دورے کے ایک حصے میں اسرائیل کے رہنماؤں سے ملاقات کرنی تھی۔

تنازعہ میں پہلے عارضی جنگ بندی میں ثالثی کرنے والے قطر نے کہا کہ حماس نے لڑائی روکنے کے لیے ایک نئے تجویز کردہ معاہدے کا جواب دیا ہے۔

دوحہ میں بلنکن سے ملاقات کے بعد قطری وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا، "جواب میں کچھ تبصرے شامل ہیں لیکن عمومی طور پر یہ مثبت ہے۔"

حماس نے تصدیق کی کہ اس نے قطر اور دیگر ثالثین کے درمیان ایک ہفتہ قبل پیرس میں پیش کردہ تجاویز پر اپنا ردِعمل پیش کیا۔

بلنکن نے کہا کہ حماس کے جواب کا اسرائیل کے ساتھ "اشتراک" کر دیا گیا ہے اور وہ بدھ کو (آج) وہاں اس پر بات کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی "بہت سا کام ہونا باقی" تھا لیکن انہیں یقین تھا کہ "معاہدہ ممکن ہے اور عملاً ضروری ہے"۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد کو بھی حماس کا ردِعمل موصول ہوا اور "اس کی تفصیلات کا اچھی طرح سے جائزہ لیا جا رہا ہے"۔

نیتن یاہو جنہوں نے ابھی تک اس جواب پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا ہے، منگل کو کہا: "ہم مکمل فتح کے راستے پر ہیں اور ہم نہیں رکیں گے۔"

جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ اسرائیلی افواج مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع قصبے رفح کی طرف بڑھ رہی ہیں جہاں محصور علاقے کی نصف سے زیادہ آبادی نے پناہ لے رکھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر اوچا کے ترجمان جینس لایرکے نے کہا، "واضح طور پر اس صورتِ حال میں رفح میں شدید دشمنی بڑے پیمانے پر شہریوں کی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے اور ہمیں اس سے بچنے کے لیے اپنی طاقت کے اندر ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔"

جنگ کا آغاز 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر بے مثال حملوں سے ہوا جن میں سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

مزاحمت کاروں نے 250 کے قریب افراد کو یرغمال بھی بنا لیا جن میں اسرائیل کے مطابق 132 غزہ میں بدستور موجود ہیں۔

حماس کے خاتمے کا عزم کرتے ہوئے اسرائیل نے فضائی حملے اور زمینی کارروائی کی جس میں حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں کم از کم 27,585 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اس مہم سے غزہ کے بڑا حصہ مسمار اور ہسپتال تباہ ہو گئے اور اس کی 2.4 ملین آبادی کا نصف بے گھر ہو گیا ہے جبکہ خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

منگل کو بھی شدید حملے اور لڑائی جاری رہی جس میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 107 افراد ہلاک ہوئے جن میں رفح میں امدادی ٹرک کی حفاظت کرنے والے چھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایک فلسطینی چشم دید گواہ نے اس حملے کے بارے میں بیان کیا، "میں اپنے گھر کے سامنے اس دکان کے پاس بیٹھا تھا۔ میں نے پولیس کی ایک گاڑی کو وہاں سے گذرتے دیکھا اور اچانک وہ دھماکے سے پھٹ گئی۔ دھماکے کی شدت کی وجہ سے میں کچھ سن نہیں سکتا تھا۔"

اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کا تعاقب کرتے ہوئے رفح میں آگے بڑھ سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا، فوج "ان جگہوں پر پہنچ جائے گی جہاں ہم نے ابھی تک لڑائی نہیں کی ہے... حماس کے آخری گڑھ تک جو رفح ہے"۔

صفیہ معروف جنہوں نے مزید شمال میں اپنے گھر سے بےگھر ہو جانے کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ رفح میں پناہ لی تھی، نے کہا وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔

"بچے ہر وقت خوفزدہ رہتے ہیں اور اگر ہم رفح چھوڑنا چاہیں تو ہمیں نہیں معلوم کہ کہاں جانا ہے۔ ہمارا اور ہمارے بچوں کا کیا ہوگا؟"

دوحہ میں بلنکن سے ملاقات کے بعد قطری وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے بارے میں "پرامید" تھے لیکن "حالات کی حساسیت" کا حوالہ دیتے ہوئے حماس کے جواب پر تفصیلی بات کرنے سے انکار کر دیا۔

گذشتہ ہفتے حماس کے ایک ذریعے نے کہا کہ مجوزہ جنگ بندی میں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے لڑائی میں چھ ہفتے کے وقفے کے ساتھ ساتھ غزہ کے لیے مزید امداد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیر کو نیتن یاہو نے کہا کہ حماس نے ہزاروں قیدیوں کے تبادلے کے لیے وہ مطالبات پیش کیے ہیں "جو ہم قبول نہیں کریں گے"۔

اسرائیلی رہنما اپنی کابینہ میں تقسیم اور باقی اسیروں کی قسمت پر عوامی غصے کے درمیان جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کو گھر واپس لانے کے لیے دباؤ میں ہیں۔

فضائی اور بحری مدد کے ساتھ اسرائیلی فوج کی توجہ غزہ کے مرکزی جنوبی شہر خان یونس پر مرکوز ہے جو حماس کے غزہ کے سربراہ یحییٰ سنوار کا آبائی شہر ہے جن پر اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملے کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا ہے۔

امریکہ نے جنگی سازوسامان اور سفارتی مدد کے ساتھ اسرائیل کی بھرپور حمایت کی ہے لیکن شہریوں کی ہلاکتیں کم کرنے کے لیے اقدامات پر بھی زور دیا ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے ترجمان ٹوماسو ڈیلا لونگا نے کہا، "غزہ کی پٹی میں انسانی صورتِ حال تباہ کن سے کہیں بڑھ کر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ہفتوں کی شدید گولہ باری اور قریب جاری لڑائی کے بعد تقریباً 8,000 بے گھر افراد کو خان یونس میں محصور العمل ہسپتال سے نکالا گیا تھا جہاں انہوں نے پناہ حاصل کی تھی۔

لبنان، عراق، شام اور یمن میں بھی تشدد بھڑک اٹھا ہے جہاں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے حماس کی حمایت میں حملے شروع کر دئیے ہیں جو اسرائیل، امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے جوابی حملوں کی وجہ بنے ہیں۔

ایک جنگی مانیٹر نے بتایا کہ شام کے شہر حمص پر اسرائیلی حملوں میں بدھ کے روز تین شہریوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

اس کے لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان میں مروہین اور میس الجبل کے قریب ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ تحریک کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا۔

یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی اس دوران کئی ہفتوں سے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان حملوں نے عالمی تجارت کو متأثر کیا ہے اور امریکی اور برطانوی افواج کی طرف سے جوابی کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکہ نے اردن میں اپنے فوجیوں پر مہلک حملے کے جواب میں شام اور عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں پر حملے کیے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں