فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کی تجاویز پرمثبت جواب موصول ہوا ہے: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر طویل مذاکرات کے بعد قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ الشیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے منگل کو کہا کہ ان کے ملک کو حماس کی طرف سے ہنگامی معاہدے کے حوالے سے"مثبت جواب" ملا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ رکی انٹونی بلنکن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے الشیخ محمد آل ثانی نے حماس کے ردعمل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

’ہم حماس کے ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں‘

اس موقعے پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکہ ایک معاہدے کے فریم ورک پر حماس کے ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت غزہ میں طویل لڑائی بند کرنے کے بدلے میں حماس سے یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بدھ کو اسرائیل کا دورہ کریں گےاور اسرائیل میں حماس کے ردعمل پر بات کریں گے۔

بلنکن نے مزید کہا کہ "ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے، لیکن ہم اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے اور واقعی ضروری ہے"۔

"امریکی مفادات کو نشانہ بنانے پر سخت جواب دینے کی وارننگ"

دوسری جانب بلنکن نے کہا کہ امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے حملوں پر امریکہ کا ردعمل جاری رہے گا، انہوں نے مزید کہا، "ہم نے پہلے دن سے ہی غزہ کی جنگ کا فائدہ اٹھا کر خطے میں اپنے مفادات کو نشانہ بنانے کے خلاف خبردار کیا تھا"۔

انہوں نے واضح کیا کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے عالمی نیویگیشن کو خطرہ ہے اور دنیا بھر کے صارفین کو خطرہ ہے۔

دریں اثناء حماس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے مصر اور قطر کی ثالثی میں غزہ میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں