حماس کے جنگ بندی مسودے میں تقریباً 1500 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی نئی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی تحریک حماس کی جانب سے قطری اور مصری ثالثوں کو قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے نئے معاہدے کے حوالے سے پیش کیے گئے جوابی مسودے کے بارے میں تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حماس کے تحریری جواب میں پہلے مرحلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید 19 سال سے کم عمر کی تمام فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی کے لیے 50 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کے بدلے میں غزہ میں یرغمال اسرائیلی قیدیوں کا پہلا گروپ رہا کیا جائے گا۔

1500 فلسطینی

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں حماس نے 1500 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، جن میں 500 طویل مدت سزا کاٹ کاٹنے والے قیدی شامل ہیں۔ ان کے بدلے میں غزہ میں زیر حراست اسرائیلی فوجیوں کی رہائی کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ مطالبہ اور طویل تحریری جنگ بندی کی تجویز میں شامل دیگر مطالبات، خاص طور پر جنگ کو روکنا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ ثالثی کی کوششوں کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

خاص طور پر چونکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بار بار کہا تھا کہ حماس کے خاتمے تک جنگ نہیں روکی جائے گی۔

"حماس کے مطالبات مسترد"

اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حماس کے پیش کردہ کچھ مطالبات کو پورا نہیں کیا جا سکتا۔

اہلکار نے وضاحت کی کہ اسرائیلی حکام اس بات پر غور کریں گے کہ آیا حماس کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے یا متبادل شرائط تجویز کی جائیں۔

حماس کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ تحریک نے تین مراحل میں 135 دنوں کے لیے جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے جس کے نتیجے میں غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلا اور جنگ کے خاتمے اور تباہ شدہ پٹی کی تعمیر نو کے لیے بات چیت کا آغاز ہو گا۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کی ڈیل پر گذشتہ نومبر کے اواخر میں عمل درآمد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 300 فلسطینیوں کے بدلے تقریباً 100 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں