شام پر اسرائیلی حملوں میں شہریوں سمیت پانچ افراد جاں بحق

جنوری میں اسرائیلی حملوں میں ایران نواز مزاحمت کاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے: سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس وار مانیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک جنگی مانیٹر نے کہا کہ شام کے حمص پر اسرائیلی حملوں میں بدھ کو تین شہریوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ شام کی وزارتِ دفاع نے غیر متعین تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ حمص شہر کے حمرا محلے میں ایک عمارت پر اسرائیلی حملوں میں تین عام شہری بشمول ایک عورت، ایک بچہ اور ایک مرد اور دو دیگر افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔ پہلے یہ تعداد چار تھی۔ مانیٹر نے کہا کہ دو غیر شہری ہلاکتوں کی شناخت نامعلوم ہے۔

شام کی وزارتِ دفاع نے اطلاع دی ہے کہ "اسرائیلی دشمن نے طرابلس (لبنان) کے شمال کی سمت سے حمص شہر اور اس کے دیہی علاقوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے ہیں... جس میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔"

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے امدادی کارکنوں کی فوٹیج کا اشتراک کیا ہے کہ وہ ایک بظاہر منہدم عمارت کے ملبے سے بھاگ رہے ہیں اور کسی کو اسٹریچر پر لے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے صوبہ حمص میں وسطی شام پر "اسرائیلی حملے" کی اطلاع دی۔

امریکہ نے اردن میں اپنے فوجیوں پر مہلک حملے کے جواب میں گذشتہ ہفتے شام اور عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں پر حملے کیے جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

آبزرویٹری کے مطابق اسرائیل نے اس ہفتے دو مرتبہ شام میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ جمعہ کے روز اسرائیلی حملوں میں دمشق کے جنوب میں تین ایران نواز مزاحمت کار مارے گئے جن کے بارے میں ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ہلاک شدگان میں پاسدارانِ انقلاب کا ایک مشیر بھی شامل ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا تھا کہ گذشتہ پیر کو دمشق کے قریب اسرائیلی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ایران نواز مزاحمت کار بھی شامل تھے۔

شام میں ایک عشرے سے زیادہ کی خانہ جنگی کے دوران اسرائیل نے ملک میں سینکڑوں فضائی حملے کیے جن میں بنیادی طور پر ایران کی حمایت یافتہ افواج کے ساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

لیکن 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایسے حملوں میں شدت آئی ہے۔

اسرائیل شام کو نشانہ بنانے والے انفرادی حملوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرنے والے ایران کو وہاں اپنی موجودگی بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

2011 کے بعد سے شام ایک خونریز تنازعہ کا شکار ہے جس میں نصف ملین سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں