شام کی سرحد پر اردنی گارڈ زخمی، تین سمگلر ہلاک: اردنی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ شام کے ساتھ سرحد پر ہونے والی جھڑپوں میں تین منشیات اسمگلر ہلاک اور ایک اردنی سرحدی محافظ زخمی ہو گیا اور یہ تازہ ترین اشتعال ہے جس کی ذمہ داری حکام نے ایران کے حمایت یافتہ منشیات فروشوں کے گروہوں پر عائد کی ہے۔

سال کے آغاز سے اردن نے شامی علاقے کے اندر سرحد کے ساتھ منشیات کے مشتبہ فارموں اور اسمگلروں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی حملے تیز کر دئیے ہیں۔

اردن نے کہا ہے کہ سینکڑوں منشیات فروشوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں جن کے شام سے اردن کی سرحد پر اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد لے جانے والی ایران نواز ملیشیا سے براہِ راست روابط ہیں۔

ایران اور حزب اللہ یہ کہہ کر اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ یہ الزامات ان کے خلاف مغربی سازش کا حصہ ہیں۔ شام کی حکومت اس بات کی تردید کرتی ہے کہ اس کے سکیورٹی دستے اور افواج منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔

اردن کی حکومت اپنے مغربی اتحادیوں کی طرح کہتی ہے کہ لبنان کا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ اور دیگر تہران نواز ملیشیا جو جنوبی شام کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں اضافے میں ان کا ہاتھ ہے۔

اردنی حکام کہتے ہیں کہ وہ اپنے شامی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوئے جہاں انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا کہ دمشق اسمگلنگ کو روکنے کے لیے مضبوطی سے کام نہیں کر رہا تھا۔

عمان کہتا ہے کہ اس نے شامی حکام کو اہم منشیات فروشوں کے نام اور اس کی تیاری کی سہولیات کے مقامات اور اسمگلنگ کے راستوں کی معلومات فراہم کی ہیں۔

دمشق نے کہا ہے کہ ان حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے جس میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں اور اس کا اصرار ہے کہ وہ سرحد کے ساتھ سرگرم گروہوں کو روک رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں