عراقی ماڈل کا ’برہنہ‘ فیشن شو، عوامی حلقوں کی شدید مذمت، حکومت کا نوٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی شہر بصرہ کے ایک مال میں ایک فیشن شو نے بڑے پیمانے پر غم غصے لہر دوڑا دی۔ ایک عراقی فیشن ماڈل کی جانب سے ’نیم برہنہ‘ شو کرنے پر عوامی حلقوں نے اس ایونٹ کی میزبانی کرنے والے مال کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس متنازع شو کا انعقاد بصرہ فیسٹیول کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا تھا اور عراقیوں نے فیشن شو کے دوران ایک "برہنہ" لڑکی کی ماڈلنگ پر سخت تنقید کی ہے۔

اس کے بعد بصرہ کے گورنر نے مداخلت کی اور مطالبہ کیا کہ سکیورٹی سروسز ان کا احتساب کریں اوراخلاقی بے راہ روی کو فروغ دینے والے ہالز اور لاؤنجز کو بند کریں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ "بصرہ کی مقامی حکومت نے عراقی عدلیہ کے ساتھ مل کر متعلقہ سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سماجی قوانین کو توڑنے، عفت و عصمت کی خلاف ورزی کرنے والوں اور عوامی حیا کو مجروح کرنے والوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

لڑکی  کے لباس نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ہنگامہ برپا کر دیا۔

بصرہ کے گورنر نے بصرہ میں فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز، باربرز یونین اور فیشن شو منعقد کرنے والی پارٹی کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور شو کی میزبانی کرنے والے "شنشل" سینٹر میں ہال کو بند کرنے کی بھی ہدایت کی۔

بیان کے مطابق بصرہ کی مقامی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ "یہ اقدام عوامی ذوق اور معاشری روایات کے منافی ہے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

بصرہ گورنریٹ کا بیان
بصرہ گورنریٹ کا بیان

"جلد کے رنگ کا لباس غلط فہمی کا باعث بنا"

دوسری جانب شو کے منتظمین میں سے ایک نے کہاکہ "لڑکی برہنہ نہیں تھی، بلکہ اس نے اپنی جلد کے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "مقامی حکام نے حقیقت جاننے کے بغیر محض میڈیا میں آنےوالی افواہوں پر عجلت میں اقدامت کیے ہیں‘‘۔

وہ  ادارہ جس نے فیشن شو کا مشاہدہ کیا۔
وہ ادارہ جس نے فیشن شو کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "برہنہ لڑکی کی ویڈیو من گھڑت ہے، کیونکہ لڑکی نے معمولی لباس پہنا ہوا تھا، لیکن اس لباس کا رنگ جلد جیسا تھا، جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو شبہ ہوا کہ وہ برہنہ ہے اور اس واقعے کے حوالے سے قانونی اقدامات کیے جائیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں