غزہ: خان یونس میں یرغمالیوں کو رکھنے والی سرنگ کی دریافت کا اسرائیلی دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے حماس کے سینئر رہنماؤں کی استعمال کردہ اور جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس میں یرغمالیوں کو رکھنے والی ایک سرنگ دریافت کر کے تباہ کر دی ہے۔

اسپیشل فورسز نے "ہدفی چھاپے" میں ایک "تزویراتی زیرِ زمین سرنگ" کا سراغ لگایا جو ایک کلومیٹر (آدھے میل سے کچھ زیادہ) تک پھیلی تھی۔

حماس کے غزہ کے رہنما یحییٰ السنوار کا یہ آبائی شہر حالیہ ہفتوں میں شدید بمباری کا مرکز رہا ہے کیونکہ اسرائیل 7 اکتوبر کو ہونے والے مہلک حملے کے ماسٹر مائنڈ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فوج کی طرف سے پھیلائی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ "یرغمالیوں کو رکھنے والا ایک سیل" تھا جس میں فرش سے چھت تک ٹائل کی دیواریں اور سٹیل کی سلاخیں تھیں۔

ایک بیان میں کہا گیا، "اس سرنگ میں مختلف اوقات میں تقریباً 12 یرغمالی رکھے گئے تھے۔ ان میں سے تین کو اسرائیل کو واپس کر دیا گیا ہے اور باقی اب بھی غزہ میں قید ہیں۔"

فوج نے اس بارے میں تفصیلات پیش نہیں کیں کہ وہاں کن یرغمالیوں کو رکھا گیا تھا۔

اس میں مزید کہا گیا، سرنگ جو "شہری علاقے کے مرکز کے نیچے" بنائی گئی تھی، اس میں ایک باتھ روم، کچن اور اغوا کاروں کے لیے آرام کی جگہ بھی شامل تھی اور یہ ایک "پیچیدہ اور باہم مربوط زیر زمین بھول بھلیاں" کا حصہ تھی۔

اس کا استعمال "حماس دہشت گرد تنظیم کے اعلیٰ عہدے داروں کو چھپانے اور یرغمالیوں کو رکھنے کے لیے" کیا جاتا تھا اور یہ حال ہی میں دریافت ہونے والی ایک اور سرنگ سے منسلک تھی جہاں دیگر قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ فوج کی ایک ویڈیو میں اسپیشل فورسز کو ایک اپارٹمنٹ کے دہانے میں چھوٹے سے بیرونی دروازے میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ملبے اور ٹوٹے ہوئے کنکریٹ سے گھرا ہوا تھا اور ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس کے قریب تھا۔

فوج نے دستی بم اور راکٹ سے چلنے والے دستی بم بھی دکھائے جن کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے انہیں تلاش کر کے ناکارہ بنا دیا۔

اسرائیلی اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر ہونے والے حملے میں تقریباً 250 یرغمالیوں کو پکڑا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 1,160 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ غزہ میں 132 یرغمالی باقی ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم کے مہم گروپ نے ایک الگ بیان میں کہا، "زیر زمین سرنگوں میں پھنسے ہوئے انہیں تاریکی، بھوک، خوف، تنہائی اور جنسی استحصال کا سامنا ہے جو ان کی روزمرہ کی حقیقت ہے۔"

"اگر ہم انہیں وہاں سے فوری طور پر نہیں نکالتے تو وہ ایک اور دن زندہ نہیں رہ سکتے۔"

اسرائیل کی بمباری سے بچنے کے لیے 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ کے انتہائی جنوب کی طرف بھاگ گئے ہیں جس میں حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 27,700 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس کے سینیئر شخصیات سرنگ کے نظام کی طرف پسپا ہو گئی ہیں جسے وہ "غزہ میٹرو" کا نام دیتا ہے جس کے داخلی راستے جان بوجھ کر شہری ڈھانچے کے اندر اور اس کے قریب بنائے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں