فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں 50 اسرائیلی قیدی ہلاک ہو چکے ہیں: مصری حکام کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اس وقت جب ثالث ممالک اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا ایک نیا معاہدہ قائم کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، خفیہ اسرائیلی اندازوں سے غزہ کی پٹی میں مرنے والے اسرائیلی قیدیوں کی تعداد کا انکشاف ہوا ہے۔

مذاکرات سے واقف مصری حکام نے انکشاف کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے حماس اور دیگر گروپوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 50 تک قیدی ہلاک ہو چکے ہیں، جو اسرائیلی فوج کی طرف سے گذشتہ روز ظاہر کیے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ یہ اعداد و شمار امریکی اور مصری حکام کے ساتھ قیدیوں کے بارے میں جاری بات چیت کے دوران شیئر کیے گئے تھے۔


درجنوں لاشیں

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محصور فلسطینی پٹی میں قید 132 قیدیوں میں سے 80 کے قریب زندہ ہیں جب کہ فلسطینی دھڑے درجنوں لاشیں اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔

تاہم، متعدد امریکی اور اسرائیلی حکام نے اشارہ کیا کہ ان کے اندازوں کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اسرائیل اس وقت اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ان 29 اموات کے علاوہ جن کا عوامی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے ، تقریباً 20 دیگر قیدیوں کی موت واقع ہو چکی ہے؟

ادھر مصری حکام نے کہا کہ حماس نے مذاکرات کاروں کو مطلع کیا کہ اسے ہلاک ہونے والے قیدیوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہے۔

تل ابیب میں مظاہرے کے دوران اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)
تل ابیب میں مظاہرے کے دوران اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)

136 قیدی

اسرائیل نے اس سے قبل تسلیم کیا تھا کہ حماس نے 2014 کی غزہ جنگ میں مارے گئے دو اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسرائیلیوں کی لاشیں اپنے پاس رکھی تھیں، جس سے معلوم اسرائیلی قیدیوں کی کل تعداد، زندہ یا مردہ، 136 ہو گئی ہے۔

امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں زندہ اور مردہ قیدیوں کی تعداد ایک ضروری معاملہ ہے، اس لحاظ سے کہ اسرائیل کتنے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

یہ معاملہ اسرائیل میں سیاسی طور پر بھی بہت حساس ہے، خاص طور پر چونکہ قیدیوں کے اہل خانہ نے حکومت پر اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے، چاہے یہ ان کے نقطہ نظر کے مطابق حماس کے خلاف جنگ میں رکاوٹ بنے۔

یہ غیر حتمی اعدادوشمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب اس حوالے سے ثالثوں کی بات چیت جاری ہے۔ دو روز قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن گذشتہ اکتوبر کے بعد مشرق وسطیٰ کے اپنے پانچویں دورے پر گئے جہاں انہوں نے سعودی عرب کے علاوہ قطر اور مصر کا دورہ کیا اور کل شام تل ابیب میں اترے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب میں
امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن تل ابیب میں

امریکہ، مصر اور قطر کے تجویز کردہ مسودے کے مطابق، قیدیوں کے بارے میں ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے مثبت اشارے ظاہر ہوئے ہیں اور اسے اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ حماس تحریک کی طرف سے ابتدائی منظوری بھی ملی۔

قابل ذکر ہے کہ حماس سمیت بعض اور فلسطینی دھڑوں نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر اپنے اچانک حملے کے دوران 240 سے زائد قیدیوں کو حراست میں لیا تھا۔

تاہم، گذشتہ نومبر (2023) کے آخر میں نافذ ہونے والے ایک معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی جیلوں سے تقریباً 300 فلسطینی قیدیوں کے بدلے تقریباً 100 اسرائیلیوں کو رہا کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں