فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے ڈاکٹر تکلیف دہ فیصلے کرنے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ کے ہسپتال میں ڈاکٹر صرف ان مریضوں کو توجہ دے پا رہے ہیں جن کے بچنے کا امکان ہے۔ غزہ کے یورپی ہسپتال میں ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی کے باعث ڈاکٹر بہت سارے مریضوں اور زخمیوں کو ہسپتال میں لیے سے انکاری ہیں اور ایسے تکلیف دہ فیصلے کرنے پر مجبور ہیں جو خود انہیں بھی پریشان کر دیتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق وہ ایسے بہت سے مرضوں کو علاج کے بغیر چھوڑنے پر مجبور ہیں جن کے زخم زیادہ خوفناک ہوتے ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ کیونکہ صاف نظر آرہا ہوتا ہے کہ ان کے علاج کے لیے ہسپتال میں ادویات اور سہولتیں موجود ہیں اور نہ ہی ڈاکٹروں کے پاس اتنا وقت کہ وہ ایک بڑی تعداد کو ڈیل کرنے کے بجائے چند زخمیوں اور مریضوں کو ساری توجہ دے دیں۔

خان یونس میں واقع یورپی ہسپتال میں 240 مریضوں کی گنجائش ہے لیکن اس وقت اس میں لگ بھگ ایک ہزار مریضوں کو رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں خان یونس کے بےگھر ہونے والے لوگوں میں سے متعدد ہسپتال کی راہداریوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

پلاسٹک سرجن احمد المخالالاتی نے کہا ہے کہ 'کئی دنوں سے ہم مریضوں کو ترجیحاً دیکھ رہے ہیں۔ ایسے مریضوں کو ترجیحاً دیکھنا ہوتا ہے جن کا بچ جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے مقابلتاً ایسے مریضوں کو ہم چھوڑ دیتے ہیں جن کی حالت زیادہ نازک ہوتی ہے۔ یعنی جنہیں علاج کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے انہیں چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمارے پاس ان مریضوں کے لیے ادویات اور طبی آلات موجود نہیں ہوتے۔'

'ہم نے ایسے بہت سارے مریضوں کا جانی نقصان برداشت کیا جن کے لیے طبی سہولیات دستیاب نہیں تھیں۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ ہم شدید جلے ہوئے مریضوں کو بھی نہیں لے رہے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ انتہائی نگہداشت وارڈ میں مزید مریضوں کو رکھنے اور انہیں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔'

سرجن احمد المخالالاتی نے بتایا کہ ایسے مریض بھی موجود ہیں جو اپنے خاندان کے تمام افراد کو کھو چکے ہیں۔ 'ان کا علاج نہ کرپانے کی تکلیف کے باعث ہم رو پڑتے ہیں کہ ہسپتال میں ان مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔'

سرجن طہر دائف اللہ نے انتہائی بنیادی طبی آلات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا 'ہسپتال مکمل تباہ ہوچکے ہیں۔ انہیں نارمل حالت میں لانے کے لیے کئی سال لگیں گے۔'

صلیب احمر کے ترجمان ڈوماسو ڈیلا لونگا نے جنیوا میں منگل کے روز پریس بریفنگ میں بتایا کہ 'الامل ہسپتال پر حالیہ ہفتے کے دوران کئی بار اسرائیلی بمباری ہوئی ہے۔ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو الامل ہسپتال میں مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا ممکن نہیں رہے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں