فلسطینی عوام کے لیے سعودی حمایت مستقل اور موقف ناقابل تبدیلی ہے: پی ایل او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ مملکت کی حمایت فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے مستحکم ہے اور فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دینے کے حوالے سے تنظیم آزادی فلسطین ’پی ایل او‘ نے مملکت کے موقف پر شکریہ ادا کیا۔

موقف میں ثابت قدمی

تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سکریٹری حسین الشیخ نے فلسطینی عوام کے بارے میں حمایتی موقف پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی امن عمل سے قبل ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سعودی وزارت خارجہ کا بیان فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت ہے۔

یہ بات سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے آج بدھ کے روز ایک بیان میں یہ واضح کرنے کے بعد سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان عرب اسرائیل امن کے حوالے سے جاری بات چیت اور اس کی روشنی میں امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کے بیان کے بعد وزارت خارجہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مملکت کا موقف فلسطین کے مسئلے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کی ضرورت کے حوالے سے ثابت قدم رہا ہے اور رہے گا۔

بیان میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ مملکت نے امریکی انتظامیہ کو اپنے ٹھوس مؤقف سے آگاہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہوں گے جب تک مشرقی یروشلم کے ساتھ 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کو اس کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ نہیں روکا جاتا، اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی قابض افواج کو واپس نہیں بلا لیا جاتا۔

ہم غزہ میں اسرائیلی حملوں کو مسترد کرتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی

خلاف ورزی ہیں: سعودی وزارت خارجہ

اس کے علاوہ، اس نے بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین سے، جنہوں نے ابھی تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے، سے 1967 کی سرحدوں پر فلسطین کی تشکیل اور بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اپنے مطالبے کی تجدید کی، تاکہ فلسطینی عوام اپنے جائز حقوق حاصل کر سکیں اور سب کے لیے ایک جامع اور منصفانہ امن حاصل کر سکیں۔

واضح رہے کہ کل، منگل کو، جان کربی نے اشارہ کیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے پر بات کرنے کی تیاری کے بارے میں مثبت اشارے ملے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اکتوبر کی سات تاریخ کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، سعودی حکام نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فلسطینی کاز اور دو ریاستی حل کی حمایت کا بارہا اعادہ کیا ہے۔ اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں اور جرائم کی بھی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں