نوجوان رہنما اور ملک میں جاری عمل درآمد کا مرحلہ سعودی عرب کو دفاع میں برتری دیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے دفاعی ریگولیٹری چیف نے منگل کو کہا، ایک "نوجوان" سعودی قیادت پر اعتماد اور ایک ایسے ملک کے ساتھ جو اپنی منصوبہ بندی سے گذر کر عمل درآمد کے مرحلے میں ہے، اس ملک کو دفاعی شعبے میں برتری فراہم کر رہا ہے۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز (جامی) کے سی ای او احمد العوہلی نے کہا: "جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی نقطۂ نظر سے [سعودی عرب] کے پاس ایک نوجوان قیادت ہے، ایک واضح وژن کے ساتھ انتہائی مرتکز قیادت،" اور مزید کہا کہ ملک اس وقت ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہا ہے جو گذشتہ کچھ سالوں میں بنائے گئے تھے۔

کھلے دروازے کی پالیسی اور بڑے بجٹ کی دستیابی کی وجہ سے مملکت میں سرمایہ کاری کو مزید مراعات یافتہ بنایا گیا ہے۔ 2024 کے لیے سعودی عرب نے 269 بلین ریال (71.73 بلین ڈالر) مختص کیے ہیں جو 2023 میں 259 بلین ریال تھے۔

ریاست کے لیے تمام شعبوں کو مقامی بنانا ایک اہم توجہ کا مرکز ہے اور سعودی موجودگی کی متلاشی غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ یہ سرکاری اداروں اور دفاعی فرمز دونوں کی طرف سے تقریب میں سب سے زیادہ زیرِ بحث سکیم بھی ہے۔

انسانی سرمائے کی دستیابی صنعت میں ان چند چیلنجوں میں سے ہے جن کا مقابلہ اندرونِ ملک پروگراموں اور شراکت داریوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جو علم کی منتقلی کو ممکن بناتے ہیں۔ سعودی شہریوں کی تربیت اور سعودی عرب میں ملازمتوں کی دستیابی کو بڑھانے کے لیے مختلف پروگرام اور پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں۔

توقع ہے کہ اس شعبے کا 2030 تک ملک کے جی ڈی پی میں 25 بلین ڈالر (93.75 بلین سعودی ریال) کا حصہ ہو گا۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اس سے 40,000 براہِ راست اور 60,000 بالواسطہ ملازمتوں کے مواقع کی حمایت کی بھی توقع ہے۔

العوہلی نے کہا کہ سعودی عرب کے پاس اپنی دفاعی افواج کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانچ سے دس سالہ منصوبہ ہے اور مزید کہا کہ اس سے مقامی بنانے کی جانب اقدامات کو واضح کرنے میں مدد ملتی ہے۔

جامی چیف نے کہا، "انسانی سرمائے کی دستیابی سے متعلق چیلنجز ہیں۔ یہ ایک نیا شعبہ ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں۔ اپنے انسانی سرمائے کے ڈھانچے میں ہم نے اسے حل کیا ہے۔"

وژن 2030 کے اہداف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے العوہلی نے کہا مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجی دفاع میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ دفاعی شو کے اہم موضوعات اور فوکس ایریاز میں سے ایک ہے۔

العوہلی نے کہا، " "زیادہ تر ٹیکنالوجیز، جدید ٹیکنالوجیز دفاع میں شروع ہوتی ہیں - انٹرنیٹ، سیٹلائٹ، روبوٹس وغیرہ۔"

انہوں نے مزید کہا، "تمام [ٹیکنالوجی] دفاعی صنعت سے شروع ہوتی ہے اور پھر شہری کی طرف ہجرت کرتی ہے۔ ہم سعودی عرب میں دفاعی صنعت کو مقامی بنانے اور ٹیکنالوجی میں بہتری کے آغاز میں ہیں۔ اب ہمارا ہدف، مقصد اور توجہ 2030 میں 50 فیصد مقامی بنانے تک پہنچنا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں