’فوٹو کولیکشن‘ کا مشغلہ، سعودی شہری نے 36 سال میں ایک ملین نایاب تصاویر جمع کرلیں

محقق اور صحافی عدنان الطریف کی جمع کردہ تصاویرمیں سعودی فرمانرواؤں، شہزادوں، عالمی شخصیات اور تاریخی مواقع کی لاکھوں اصلی تصاویر شامل ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نایاب فوٹو جمع کرنے کا شوق تو بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے مگر سعودی عرب کے محقق عدنان الطریف نے اپنی زندگی کے چھتیس سال نایاب تصاویر جمع کرنے میں لگا دیے اور اس عرصے میں انہوں نے ایک ملین سے زائد تصاویر جمع کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

سعودی عرب کی تاریخ کے محقق عدنان الطریف ایک منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے گذشتہ چھتیس برس سے مملکت کے اندر اور دنیا بھر سے نایاب تصاویر جمع کرنے کے مشغلے میں مصروف ہیں۔

الطریف کے پاس تصاویر کا مجموعہ 10 لاکھ سے زائد ہے۔ اس میں چار لاکھ تصاویر اصلی ہیں۔ تصاویر کے اس عالمی ذخیرے میں سعودی فرمانرواؤ، شہزادوں اور اہم حکومتی شخصیات کے نایاب فوٹو بھی شامل ہیں۔

ان کے پاس موجود تصاویرمیں بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیزآل سعود کی متعدد نایاب تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی 1945ء میں مصرمیں نہرسوئزکی تصویر، برطانوی وزیر اعظم ویسٹن چرچل اور ان کے وزیر خارجہ انٹونی ایڈن کی مصرکے فیوم کے علاقے میں لی گئی تصاویر اور مصر کے شاہ فاروق کی تصویریں بھی شامل ہیں۔

نمائشوں اور تاریخ کا ریکارڈ

الطریف نے غیر معمولی تصاویر کو تلاش میں برس ہا برس سفر کیا۔ انہوں نے ایسی تصاویر تلاش اور جمع کیں جن کا کسی نا کسی حوالے سے مملکت کے ساتھ تعلق ہے۔ اس کے علاوہ سعودی فرمانرواؤں کی دنیا کے عالمی سطح پر تعلقات کو اجاگر کرتی تصاویر ان کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

فوٹو جرنلزم کے میدان میں الطریف کا سفر 1986ء میں اس وقت شروع ہوا جب وہ کالج آف ماس کمیونیکیشن میں پہلے سال میں تھے۔ مصری دارالحکومت "قاہرہ" میں ’کل اور آج‘ کے عنوان سے منعقدہ نمائش کی کوریج کے لیے گئے۔ اس دوران انہیں نمائشوں اور تاریخ کو تصاویر میں تلاش کرنے کا خیال آیا۔

الطریف نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ جب میں نے جنادریہ میں "قومی ورثہ اور ثقافت" فیسٹیول میں نیشنل گارڈ کے ساتھ شرکت کی تو میں نے سعودی عارضہ پرپہلی نمائش کی کوریج کی تھی۔ یہ ایک ایسی تاریخ ہے جس میں شاہ عبدالعزیز کی ملاقاتوں کی تصویریں ہیں۔ ان کے علاوہ کئی برادر اور دوست ممالک کے سربراہام مملکت، بادشاؤں اور صدور کی تصاویربنائی گئیں تھیں۔

اگلے سال الطریف نے نمائش میں شرکت کے لیے شاہ عبدالعزیز کی ان کی ملاقاتوں کی تصاویر تلاش کیں۔ اپنی تحقیق کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ شاہ عبدالعزیز کے ساتھ ان کی نجی ملاقاتوں کی تصویریں نہیں بنائی گئی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے 1910ء سے 1952ء تک شاہ عبدالعزیز کی تمام ملاقاتوں کی تصاویر تلاش کیں۔

نایاب تصاویر

الطریف سعودی عرب میں حکمران خاندان کی نایاب تصاویر اکٹھا کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ ان کی دلچسپی تاریخی ورثے اور تاریخ کے تئیں اپنی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہانیوں کی تلاش میں مزید گہری ہوتی چکی گئی۔

نایاب تصاویر اکٹھا کرنے کے لیے اپنے سفر کے دوران انہوں نے 28 نمائشوں کی کوریج کی جن میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز، شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز، شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز، اور شہزادہ نائف بن عبدالعزیز سمیت اہم قیادت اوری شخصیات نے شرکت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں