مشرق وسطیٰ

تمام قیدیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل سنوار کی جلاوطنی قبول کر سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکام اور مشیروں نے ’این بی سی‘ نیوز کو بتایا ہے کہ اسرائیل تمام قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے خاتمے کے بدلے حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کو جلا وطن کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جلا وطنی کا خیال غزہ میں ایک نئی گورننگ باڈی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی میں صورت حال کو پرسکون کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ جب کہ جنوبی غزہ کی پٹی کے شہررفح میں پھنسے دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی قسمت کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ اسرائیل حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ .

امریکی قطری اور مصری ثالث غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اپنے بیانات سے پرامید نظر آئے اور کہا کہ وہ اب بھی مذاکرات کی گنجائش دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو کشیدگی کو ہوا دینے والے کسی بھی اقدام کے خلاف خبردار کیا۔

بلنکن کے یہ الفاظ اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے قیدیوں کے معاہدے کے حصے کے طور پر حماس کی جانب سے چار ماہ کی جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

نیتن یاہو جن کی اسرائیل کے اندر مقبولیت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے عالمی ثالثوں کے ساتھ کام جاری رکھنے اور غزہ میں ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے عوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 51 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ قیدیوں کی بازیابی جنگ کا بنیادی ہدف ہونا چاہیے جبکہ 36 فیصد نے کہا کہ ہدف حماس کا تختہ الٹنا ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں