حماس پر مکمل فتح ضروری ہے، اسرائیلی نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ غزہ میں حماس پر مکمل فتح ہی چاہیے جس کے اسرائیل قریب ہے۔ انہوں نے مکمل فتح پر اصرار کرتے ہوئے جنگ بندی کی تازہ تجاویز اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اپنی متحارب فورس کی شرائط کو مسترد کر دیا ہے ۔

بدھ کے روز ان کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیلی دورے آئے ہوئے ہیں۔

نیتن یاہو نے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ فلسطینی عسکری گروپ کو تباہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے 'اسرائیل کے پاس حماس کو تباہ کرنے کا کوئی متبادل نہیں ہے ۔'

پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے حماس کے خلاف سخت انداز میں کہا 'پرسوں کا دن حماس کے بعد کا دن ہو گا۔ کیونکہ غزہ جنگ کا ایک ہی حل ہے کہ حماس کے خلاف ہم فتح پائیں۔ '

حماس کے سینئیر رہنما سمیع ابو زہری نے اسرائیل کے تازہ ترین موقف کے بارے میں کہا 'نیتن یاہو کی طرف سے جنگ بندی سے انکار کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ مین تصادم دور تک پھیل سکتا ہے۔ '

رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ابو زہری کا کہنا تھا کہ 'یاہو کا بیان ایک سیاسی بہادری کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم حماس نے ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کر رکھی ہے۔'

واضح رہے کہ حماس نے ساڑھے چار ماہ کے لیے جنگ بندی تجویز کی ہے۔ جنگ بندی کے دوران یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ پھر اسرائیلی فوج کے انخلاء کی صورت پیدا ہونے کی امید ہو گی۔ یوں جنگ اپنے اختتام کو پہنچ سکے گی۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم جنگ بندی کے بجائے جنگ کو ہی ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں