حماس کے وفد کی جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے مصرآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کا ایک وفد غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کے لیے مصر پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت حماس کے نائب صدر ڈاکٹر خلیل الحیہ کر رہے ہیں۔

یہ دورہ مصر کی جانب سے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوا ہے کہ قاہرہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی کی صورت حال کو پرسکون کرنے، فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنے کےحوالےسےہونے والے مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔

مصر کے ایک سرکاری ذریعے نے اعلان کیا کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی تک پہنچنے اور قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کریں۔

اسرائیلی حکام اور مشیروں نے ’این بی سی‘ نیوز کو بتایا ہے کہ اسرائیل تمام قیدیوں کی رہائی اور غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کے خاتمے کے بدلے حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کی جلاوطنی کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ جلاوطنی کا خیال غزہ میں ایک نئی گورننگ باڈی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی پٹی میں صورتحال کو پرسکون کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ جب کہ جنوبی غزہ کی پٹی کے شہررفح میں پھنسے دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی قسمت کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ اسرائیل حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ .

امریکی قطری اور مصری ثالث غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اپنے بیانات سے پرامید نظر آئے اور کہا کہ وہ اب بھی مذاکرات کی گنجائش دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو تناؤ کو ہوا دینے والے کسی بھی اقدام کے خلاف خبردار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں