نیتن یاہو کا امریکی وارننگ کے باوجود رفح میں فوجی آپریشن کے لیے تیار رہنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے اسرائیلی حکام کو جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر حملے کے خلاف خبردار کرنے کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فورسز کو اس شہر میں آپریشن کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ رفح کے علاقے میں جنوبی اور شمالی غزہ سے بے گھر ہونے والے ڈیڑھ ملین سے زاید لوگ جمع ہیں۔ امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر رفح میں فوجی کارروائی کی گئی تو وہاں پر بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ "غزہ میں جنگ برسوں تک نہیں بلکہ مہینوں میں ختم ہو جائے گی۔ غزہ میں ہماری جنگ کے اعلان کردہ اہداف تبدیل نہیں ہوئے۔ غزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کے لیے فوجی دباؤ ضروری ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے نے مزید کہا کہ "اسرائیلی افواج خان یونس میں لڑ رہی ہیں جو حماس کا اہم گڑھ ہے۔"

اسلحہ سے پاک

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں حماس کے خلاف فیصلہ کن فتح کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ میں نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو بتایا کہ ہم غزہ میں فتح حاصل کرنے کے قریب ہیں"۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے امریکی وزیر سے کہا کہ حماس کو ختم کرنے کے بعد غزہ کو اسلحہ سے پاک علاقہ بنایا جائے گا۔

مذاکرات جاری ہیں

نیتن یاہو نے انٹونی بلنکن کو مطلع کیا کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ حماس کے خاتمے کے ساتھ ہی ہو گا۔ غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ’یو این آر ڈبلیو اے‘ کی تبدیلی شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ہمارے فوجی بین الاقوامی قوانین کے مطابق رفح میں کام کریں گے۔

قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق نیتن یاہو نے کہا کہ "ہم نے مجوزہ معاہدے کے حوالے سے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا اور بات چیت جاری ہے"

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کا مستقبل غزہ کی جنگ کے مستقبل سے طے ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں