اسرائیلی فوجی 'چیک پوائنٹس' نے مغربی کنارے میں بھی زندگی غزہ کی طرح مفلوج کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بیت المقدس میں اپنے کام پر بروقت پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ مراد خالد اسرائیلی چیک پوائنٹ پر ہر روز تین بجے صبح پہنچ جائے۔ 27سالہ مراد خالد کو اس قدر صبح اس کے باہوجود گھر سے نکلنا پڑتا ہے کہ وہ مغربی کنارے کا رہائشی ہے اور یروشلم سے زیادہ دور نہیں۔

مراد خالد کے مطابق مغربی کنارے سے یروشلم پہنچنے کے لیے اسے اور اس طرح کے باقی سب فلسطینیوں کو راستے میں موجود اسرائیلی چیک پوائنٹ پر گاڑی کے ساتھ کم از کم ایک گھنٹے کے لیے رک کر چیکنگ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد اسے یروشلم کی طرف جانے کی اجازت ملتی ہے۔ یہ ایک معمول بن چکا ہے۔

27 سالہ مراد خالد نے بتایا وہ کفر عقب میں یروشلم سے متسل علاقے میں رہتا ہے مگر راستے میں چیک پوائنٹ آتا ہے۔ اس لیے اسےیروشلم پہنچنے کے لیے گھر اور یروشلم کے درمیان فاصلے سے کہیں زیادہ وقت دینا پڑتا ہے۔

مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کی عمولی شکایت ہے کہ اسرائیلی رکاوٹوں اور فوجی چیک پوائنٹس نے لوگوں کی زندگی کو انتہائی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

فلسطیینی اتھارٹی کے ایک عہدے دار عبداللہ ابو رحمہ نے کہا 'اسرائیل اور حماس کے درمیان جب سے غزہ میں جنگ جاری ہے مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز نے زندگی مفلوج کر رکے رکھ دی ہے۔

سات اکتوبر کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز نے چیک پوائنٹس میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے اور یہ اب جگہ جگہ رکاوٹیں موجود ہیں۔ ان چیک پوائنٹس پر لمبے وقت کے لیے فلسطینیوں کو روکا جاتا ہے۔ بصورت دیگر انہیں لمبے راستوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔

واضح رہے مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت نے ناجائز یہودی بستیاں قائم کر کے مختلف ملکوں سے 490000 لا کر ان ناجائز بستیوں میں بسا دیا ہے۔ یہ یہودی آباد کار بھی فلسطینیوں پر حملوں میں شامل رہتے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے اسرائیلی فوج بھی فلسطینیوں کو سکت مشکلات سے دوچار رکھتی ہے۔

تھکا دینے والی رکاوٹیں

عامر السلامین نامی اکاونٹنٹ نے بات کرتے ہوئے کہا ' انہیں اپنے والدین سے ملاقات کے لیے رام اللہ کے گاؤں جانا ہوتا ہے۔ اس سفر کے لیے گاڑی پر صرف آدھا گھنٹہ درکار ہوتا ہے مگر اسرائیلی چیک پوائنتس نے اس مختصر سے راستے کے سفر کو تھکا دینے والا سفر بنا دیا ہے۔ حتیٰ کہ یہ مختصر سا سفر چار گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے۔

خیال رہے 47 سالہ عامر السلامین بیوی بچوں کے ساتھ ہر ہفتے اپنے والدین سے ملنے کے لیے رام اللہ کے نزدیک ان کے گاؤں جاتے ہیں۔ ان نئی نئی رکاوٹوں نے انہیں مصیبت میں ڈال دیا ہے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے اب تک مجموعی طور پر اسرائیلی یہودی بستیوں کے آباد کاروں نے 380 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے علاوہ اسرائیلی فوج کی کارروائیاں بھی جاری رہتی ہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں یہ فوجی کارروائیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔

ہر ایک کا تحفظ

اسرائیلی فوج نے ' اے ایف پی ' کو بتایا کہ چیک پوائنتس کا مقصد سیکیورتئی کی صورت حال کو بہتر رکھنا ہے اور ہر ایک کے تحفظ کو یقیینی بنانا ہے۔

ان اسرائیلی چیک پوائنٹس سے تنگ آ کر فلسطینی دوسرے اور لمبے راستوں کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان راستوں پر بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔

'اے ایف پی ' کی ایک ٹیم نے صبح آتھ بجے ایک مغربی کنارے کے شمال میں طولکرم جانے کے لیے سفر کا آغاز کیا ۔ یہ سفر دو گھنٹے کا تھا مگر رکاوٹوں کی وجہ سے ییہ سفر ساڑھے پانچ گھنٹوں پر پھیل گیا اور ڈیڑھ بجے دن کے ختم ہو سکا۔

اسی طرح یروشلم سے جنین تک کا سفر بھی اب دو گھنٹے کے بجائے پانچ گھنٹوں پر پھیل گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے حوارا اور نابلس کے درمیان سڑک کو بند کر دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اسرائیلی فوج نے کئی فلسطینی دیہات کے داخلی راستے بند کر رکھے ہیں۔ یہ اقدام زیادہ تر مغربی کنارے کے شمال میں کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں