حماس مزید جنگ بندی مذاکرات کے لیے تیار ہے: فلسطینی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی تحریک حماس کے قریبی ایک فلسطینی اہلکار نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ اس کی ابتدائی پیشکش کے مسترد ہو جانے کے باوجود وہ اب بھی اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر بات کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز تنظیم کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے "عجیب و غریب" قرار دیا اور "مکمل فتح" تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کا عزم کیا۔

فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ حماس کا ایک وفد جمعرات سے قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقات کرے گا جو اس کے بعد مزید مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے لیے قطری نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

مذاکرات سے واقف اہلکار نے مزید کہا، "ہم توقع کرتے ہیں کہ مذاکرات بہت پیچیدہ اور مشکل ہوں گے لیکن حماس گفتگو کے لیے رضامند اور جنگ بندی تک پہنچنے کی خواہش مند ہے۔"

چونکہ وہ اس حساس معاملے پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "دونوں فریق بالواسطہ طور پر مذاکرات کے کئی دور کریں گے۔"

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے خطے کے تازہ ترین دورے پر نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقات کی ہے تاکہ ایک معاہدے کی ثالثی کی کوشش کی جا سکے۔

انہوں نے بدھ کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی بیان بازی کو کم کرے کیونکہ 7 اکتوبر کو حماس کے مزاحمت کاروں کے جنوبی اسرائیل پر مہلک حملے سے شروع ہونے والی جنگ اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔

غزہ میں مقیم فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ مصری دارالحکومت میں ہونے والی بات چیت مجوزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مرکوز ہوگی جو "تقریباً چھ ہفتے" تک جاری رہے گا۔

اس دوران اسرائیلی جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں بات چیت ہوگی۔

عہدیدار نے مزید کہا، "حماس کا ردِعمل جو مصر اور قطر تک پہنچا اور اسے امریکہ اور دیگر جماعتوں نے دیکھا، اس میں زیرِ حراست اسرائیلی بچوں، خواتین، بزرگ افراد اور بیماروں کو رہا کرنے کی پیشکش شامل تھی۔"

"اس کے بدلے میں اسرائیل متعدد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن پر آج (جمعرات) سے بات چیت ہوگی۔"

پہلے مرحلے میں خوراک، ادویات اور ایندھن لے جانے والے 400 سے 500 امدادی ٹرکوں کو روزانہ غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی کیونکہ علاقے میں انسانی بحران کے بارے میں وسیع خدشات ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ لڑائی میں پہلے وقفے کے دوران بات چیت میں غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور بے گھر ہونے والوں کی واپسی پر ایک معاہدے پر غور کیا جائے گا۔

اہلکار نے مزید کہا، "حماس اس بات پر اصرار کرے گی کہ مصر، قطر، امریکہ اور فرانس کے ساتھ ترکی اور روس کھڑے ہوں تاکہ معاہدے کے تمام مراحل پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے جس میں ایک مستقل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو شامل ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں