غزہ میں شیر خواروں سمیت 10 فیصد فلسطینی بچے خوراک کی کمی کا شکار: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی 10 فیصد تعداد کو خوراک کی کمی کا شکار قرار دیا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی طرف سے مرتب کردہ ابتدائی اعداد وشمار میں بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کے بےگھر لوگوں کو جن کی تعداد اس وقت 23 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ بے سر وسامانی کے ماحول میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں کے لیے خوراک کی ترسیل سات اکتوبر سے پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو چکی ہے۔ غزہ کے فلسطینیوں کی بڑی تعداد بھوک کا شکار ہے خصوصاً شمالی غزہ اور وسطی غزہ کے لوگ اس کا زیادہ نشانہ ہیں کہ ان دونوں علاقوں میں اسرائیل نے خوراک سمیت انتہائی بنیادی ضروریات کے لیے امدادی کارروائیوں کو بھی روک رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے 'OCHA' کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 9 اعشاریہ 6 فیصد فلسطینی بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ ان بچوں کی عمریں شیرخوارگی سے لے کر 5 سال تک ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد 7 اکتوبر سے جاری جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ ہے۔

شمالی غزہ میں بچوں کے بھوک زدہ ہونے کی تعداد 16 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔ گویا ہر چھ میں سے ایک بچہ بھوک زدہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں میں بھوک زدگی کے اس ماحول کی نشاندہی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ پچھلے ہفتوں کے دوران کئی بار یہ دیکھا گیا کہ بےگھر اور بےسرو سامان ہو چکے فلسطینی شہری امدادی ٹرکوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق خیراتی تنظیموں کے لوگوں نے بتایا ہے کہ خوراک سے محروم غزہ کے رہنے والے فلسطینی ان دنوں گھاس کھانے پر بھی مجبور ہو چکے ہیں۔ ان فلسطینیوں میں سے تقریباً ہر شہری خوراک سے محروم اور بھوکا ہے۔ اور انہیں پینے کے لیے ملنے والا ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی بھی صحت کے لیے انتہائی ضرر رساں ہے۔

جبکہ کل ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی ہی ان میں سے ہر شہری کو اپنی تمام تر ضروریات کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے۔ گویا گدلا اور صحت کے لیے خطرناک پانی بھی پینے کے لیے بہت کم میسر ہے۔

'اسلامک ریلیف چیرٹی' کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ میں نے اور میرے بچوں نے پچھلے کئی ماہ سے سبزی یا پھل نہیں کھایا۔ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے آنے والے امدادی ٹرکوں سے امداد پانے والے لوگوں کو حصول امداد سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا ہو۔

اس فلسطینی شہری نے بتایا کہ ہم اس خشک مکئی سے روٹی بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں جو اس سے پہلے جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ تاہم ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں یہ بھی مل رہا ہے۔ بہت سارے لوگوں کو جانوروں کے زیر استعمال کی یہ خشک مکئی بھی نہیں مل رہی ہے۔

بین الاقوامی این جی او 'ہووپ' کا کہنا ہے 15 فیصد خواتین جو ماں بننے والی ہیں وہ بھی خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ رپورٹ 'دیر البلح' کے علاقے میں مرتب کی گئی ہے جو وسطی غزہ سے متعلق ہے۔

غزہ میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام کر کے واپس لوٹنے والے ڈاکٹر سنتوش کمار کا کہنا ہے کہ غزہ میں خوراک کی کمی کے حالات دیکھ کر ان کی ٹیم نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف ایک وقت کھانا کھائے گی۔ ڈاکٹر سنتوش کا 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا غزہ میں لوگ بھوک کا شکار ہیں۔ مجھے کئی لوگوں نے کہا ہم میں سے جو لوگ اب زندہ نہیں رہے وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں بھوک کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں