اسرائیلی فوج رفح سے شہریوں کے انخلاء کے لیے منصوبہ بنائے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جمعہ کے روز اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ رفح سے انخلاء کے لیے دوہرا منصوبہ بنائے۔ یہ حکم جنوبی غزہ سے حماس کے مکمل خاتمے لیے مزید کارروائیاں کرنے کی غرض سے دیا گیا ہے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ رفح پر آنے والے دنوں میں اسرائیلی حملے مزید تیز ہورہے ہیں۔

نیتن یاہو کے اس حکم کے ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی فوج نے غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع سرحدی شہر رفح پر بد ترین بمباری کی ہے۔ رفح کا شہر غزہ کے جنوب میں مصری سرحد سے جڑا آخری فلسطینی شہر ہے۔ جہاں غزہ کی بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکی 23 لاکھ کی آبادی میں سے نصف فلسطینیوں نے اسی رفح میں پناہ لے رکھی ہے۔

سات اکتوبر سے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی فلسطینی آبادی کو رفح کی طرف خود دھکیلا تھا۔

غزہ میں اسرائیل کی بد ترین جنگ کے دوران اسرائیل کے سب سے بڑے مدد گار امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے بھی اب اسرائیل پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے کہ اسرائیل عام شہریوں کی ہلاکتوں سے گریز کرے۔

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی طرف سے بے گھر کیے گئے 23 لاکھ فلسطینیوں کے لیے کافی تشویش پائی جاتی ہے کہ ان فلسطینیوں کو اسرائیل نے جس طرح وحشیانہ بمباری کر کے بے گھر کیا اور نقل مکانی پر مجبور کیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل ان بے گھر فلسطینیوں پر ابھی بھی بمباری کرنے سے گریز پر تیار نہیں ہے۔

اسرائیلی فوج نے رفح شہر پر بمباری کے علاوہ اب اس پر زمینی حملہ بھی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ اسرائیل رفح میں پناہ لیے ہوئے گیارہ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو رفح سے بھی آگے مصر کی طرف دھکیل دینا چاہتا ہے۔ تاہم اس کے لیے فلسطینی آمادہ ہیں نہ ہی مصر تیار ہے کہ فلسطینیوں کو مصری علاقے میں منتقل کر دیا جائے ۔

مصر شروع دن سے اس نوعیت کے اسرائیلی عزائم کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کر رہا ہے کہ فلسطینی کی جلاوطنی اور فلسطینی بدری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر محمود عباس کا رد عمل

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیر اعظم کی اپنی فوج کو دیے گئے اس حکم کے بارے میں خبر دار کیا ہے کہ یہ حکم بنیادی طور پر فلسطینیوں کو فلسطینی سرزمین سے بے دخل کرنے اور مصر کی جانب دھکیل دینے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس طرح کے کسی بھی اقدام کی ذمہ داری اور اس کے نتائج کا اسرائیل اور امریکہ کی انتظامیہ کو جواب دینا ہو گا۔ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس کو بھی رفح کے بارے میں اسرائیلی عزائم کی جانب متوجہ کیا ہے کہ وہ اسے روکیں۔ ایسے اسرائیلی اقدام سے خطے کی سلامتی کے لیے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں