اسرائیلی فوج نے خان یونس کے الامل ہسپتال پر حملہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز ایک بار پھر غزہ میں ایک ہسپتال پر حملہ کیا ہے اور اسرائیلی فوج مریضوں اور زخمیوں کی پروا کیے بغیر ہسپتال کے اندر گھس کا توڑ پھوڑ کرتی رہی۔

غزہ کے شہر خان یونس میں الامل ہسپتال اتفاق سے ابھی تک مکمل تباہی سے بچا ہوا ہے اور غزہ میں زخمیوں یا مریضوں کے لیے باقی بچے ہسپتالوں میں سے ایک ہے۔ تاہم اس پر بھی جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا۔

اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج اس ہسپتال پر حملہ کر چکی ہے۔ جبکہ پچھلے کئی ہفتوں سے خان یونس میں واقع اس ہسپتال کا محاصرہ بھی کر رکھا تھا۔ اس فوجی حملے کے دوران طبی عملہ کو زخمیوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے الامل ہسپتال پر تازہ حملے کے بارے میں سوال کا جواب دیا ہے نہ کوئی تبصرہ کرنا پسند کیا ہے۔ اس سلسلے میں ' اے ایف پی ' نے اسرائیلی فوج کے ترجمان سے رابطہ کیا تھا۔

تاہم اسرائیلی فوج کے الامل ہسپتال کے محاصرے کے بعد حملے نے غزہ میں ایک اور علاج گاہ میں زیر علاج فلسطینیوں کے لیے مشکلات بڑھا دیں جبکہ ہسپتال اسرائیلی فوج کے حملوں اور فلسطینیوں کی مزاحمت کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے۔ فلسطینی ہلال احمر کے مطابق ہسپتال کے ارد گرد اسرائیلی فوج نے توپ خانے کا استعمال کیا یہ سلسلہ جمعرات سے شروع ہوا تھا۔

اس واقعے سے پہلے ہی ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسے ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مشکلات میں ہر آنے والا دن اضافہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ہلال احمر کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 8000 فلسطینی ہسپتال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ واضح رہے غزہ میں اب تک مجموعی طور پر 67000 سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج حملے کے بعد ویڈیو میں طبی عملے کے رکن نے ایک ضعیف فلسطینی خاتون کو وہیل چئیر کے ذریعے ایک تباہ شدہ گلی سے ہسپتال کے بیڈ پر منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں