اقوام متحدہ کا سعودی خاتون کو خواتین کو بااختیار بنانے کی سفیر کا خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند مہینوں کے دوران اقوام متحدہ کی امن کی پیغامبر کے طور پر تقرری کے بعد ڈاکٹر خلود المانع کو اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے انسانی حقوق نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عالمی سفیر کے طور پر منتخب کیا ہے۔

ڈاکٹرخلود المانع کو رواں سال 2024ء سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والی انسانی حقوق کی ساتویں عالمی سمٹ کی مرکزی ترجمان کے طورپر بھی خدمات انجام دیں گی۔ ڈاکٹر خلود کے لیے یہ اعزاز سعودی عرب کی خواتین کی ترقی اورانہیں با اختیار بنانے کے لیے مملکت کی سطح پرکی جانے والی مساعی اور عالمی سطح پرمملکت کی خواتین کی کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔

اس تناظر میں ڈاکٹر خلود نے کہا کہ وہ عالمی سطح پر سعودی خواتین کی قیادت اور اہم کردار کو اجاگر کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور سعودی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ ترقی مملکت کی ترقی کے عمل میں خواتین کو شامل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ "میں ایک کاروباری اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح کی قیادت کرنے والی خواتین میں شمولیت کے لیے پر خوش ہوں، جو کہ پانچویں صنعتی انقلاب کا بنیادی محرک ہے۔ مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروجیکٹس، آٹومیشن، اور جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے نجی اور صنعتی شعبے اور نئے شہروں میں سمارٹ نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

ڈاکٹر خولود المانع کی اس عہدے پر تقرری ان کی دیگر کامیابیوں کے علاوہ ہے جو انہیں گذشتہ برسوں میں بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے حاصل ہوئی ہیں۔ اسی ضمن میں انہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سال 2024ء کے لیے انٹرنیشنل لیڈرشپ اینڈ انٹرپرینیورشپ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ بات بھی ذکرہے کہ ڈاکٹر خلود سعودی عرب کی نمائندگی کرنے والے G20 ورلڈ انوسٹمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ فورم (WBAF) میں سینیٹر کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی سعودی شخصیت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں