عراق کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا خطے میں امریکی فوجیوں پر دوبارہ حملے شروع کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں اسلامی مزاحمت تنظیم نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں اشارہ دیا کہ وہ ملک اور پورے خطے میں امریکی فوجیوں پر دوبارہ حملے شروع کریں گے۔

یہ بیان امریکی فوج کے ڈرون حملے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں کتائب حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر کو ہلاک کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے کہا کہ ہلاک شدہ ابو باقر السعدی "خطے میں امریکی افواج پر حملوں کی براہِ راست منصوبہ بندی اور ان میں حصہ لینے کا ذمہ دار تھا۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ جب امریکہ نے کتائب حزب اللہ کے کمانڈر کو ہلاک کیا تو اس نے جنگ کے نام نہاد قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اسلامی مزاحمت نے طنز کیا، "قابض دشمن قوتیں صرف ہتھیاروں کی زبان سمجھتی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ عراق سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کی کوششوں میں "دردناک حملے" اور "وسیع پیمانے پر حملے" کیے جائیں گے۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ السعدی شام میں کتائب حزب اللہ کا سربراہ تھا۔ اس کے علاوہ ایک امریکی دفاعی اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن نے "گذشتہ ہفتے کے اوائل" میں اس حملے کی اجازت دی تھی جب انہیں پینٹاگون کی جانب سے اردن کے ٹاور 22 پر ڈرون حملے کا جواب دینے کے لیے اختیارات دیے گئے تھے۔

بغداد نے فوری طور پر امریکی حملے کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ شہریوں کی جانوں کو نظرانداز کیا گیا۔ کسی شہری کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ "ہم احتیاط سے اہداف اور وقت کا انتخاب کرتے ہیں تاکہ معصوم جانوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔"

اہلکار نے امریکی حکام کے سابقہ تبصروں کا بھی اعادہ کیا جس میں عراقی حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو لگام دے۔

دونوں ممالک نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن اور بغداد داعش کو شکست دینے کے لیے امریکی قیادت والے اتحاد کے مستقبل کے بارے میں اس ہفتے کے آخر میں بات چیت دوبارہ شروع کریں گے۔

ایران نواز عراقی قانون ساز ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں نے اعلانیہ امریکی افواج کو ملک سے نکالنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

ان مطالبات میں گذشتہ ماہ کی امریکی کارروائی کے بعد اضافہ ہوا جس نے ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے ایک اور اہلکار کا صفایا کر دیا۔

لیکن ٹاور 22 کے حملے اور امریکی انتباہ کہ وہ جواب دے گا، کے بعد کتائب حزب اللہ نے کہا کہ وہ امریکیوں پر حملے روک رہے تھے تاکہ عراقی حکومت کو ملک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

امریکہ نے کہا کہ اردن کے حملے اور 17 اکتوبر سے عراق، شام اور اردن میں امریکی افواج پر 160 سے زیادہ حملوں کے بعد کثیر سطحی ردِعمل دیا جائے گا۔

کیا بدھ کا حملہ "کثیر سطحی" ردِعمل کا آخری حملہ تھا، اس سوال کے جواب میں امریکی دفاعی اہلکار نے کہا: "صدر واضح تھے: ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے جو کچھ بھی کر سکتے ہیں کریں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں