واشنگٹن کو نیتن یاہو پر اعتماد نہیں، غزہ جنگ سےمتعلق غلطیوں کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز اسرائیل پر صدرجو بائیڈن اور قومی سلامتی کے ایک سینیر اہلکار کی طرف سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی طرف سے اسرائیل کی چار ماہ پرانی جنگ کو سنبھالنے کے طریقے پر کی گئی شدید تنقید کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیل کی اس جنگ کا مقصد فلسطینی تنظیم حماس کو اکھاڑ پھیکنا ہے۔

جمعرات کی شام صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بائیڈن نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو "مبالغہ آمیز" قرار دیا اور کہا کہ معصوم لوگوں کی تکالیف کو "روکنا چاہیے"۔ بائیڈن پہلے بھی فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر کی ریکارڈنگ

اسی تناظرمیں ’نیویارک ٹائمز‘ نے جمعہ کے روز رپورٹ میں بتایا کہ اس نے ایک ریکارڈنگ حاصل کی ہے جس میں قومی سلامتی کے مشیر جان فائنر نے نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت پر "عدم اعتماد " کا اظہار کیا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وینر خاص طور پر نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے بعد دو ریاستی حل تلاش کرنے کے عزم کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے ایک بیان میں کہا کہ "صدر اور مسٹر فائنر کچھ عرصے سے ہمارے خدشات پر غور کر رہے ہیں اور ایسا کرتے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا غزہ میں جاری اسرائیلی آپریشن میں بے تحاشا شہری جانی نقصان کم کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے۔

واٹسن نے مزید کہا کہ "صدرنے اس جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی واضح کر دیا ہے کہ ہم حماس کو شکست دینے کا ہدف رکھتے ہیں، لیکن اسرائیل کو اپنی کارروائیوں کے معصوم شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کی تاکید کی جاتی رہی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کی غلطیاں

ریکارڈنگ میں وینر نے بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے کی گئی "غلطیوں" کے بارے میں بھی بات کی اور اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ انتظامیہ نے جنگ کے شروع میں فلسطینیوں کے جانی نقصان کو کم کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اختیار نہیں کی۔

بائیڈن نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے امریکہ، مصر اور قطر کی طرف سے دونوں فریقوں کو بقیہ قیدیوں کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جنگ بندی کی کوششوں کو ترک نہیں کیا ہے۔ لیکن حماس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے اور تبادلے کے معاہدے کے حصے کے طور پر جنگ ختم کرے لیکن نیتن یاہو نے ان شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا.

بائیڈن نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ ایک ایسا معاہدہ ہو سکتا ہے جو جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکے۔ بائیڈن نے مزید کہاکہ "میں قیدیوں کے حوالے سے جنگ بندی کے لیے سخت دباؤ ڈال رہا ہوں۔ میں اس معاہدے پر انتھک محنت کر رہا ہوں"۔

بائیڈن نے جمعرات کے روز وینر اوردیگر سینیر معاونین کو مشی گن بھیجا تھا تاکہ وہ عرب اور مسلم اقلیت کے رہ نماؤں سے ملاقات کر سکیں، کیونکہ ان کی انتظامیہ ایک ایسی ریاست میں ایک اہم انتخابی اڈے کے ساتھ دراڑ کو دور کرنا چاہتی ہے جو2024ء میں صدارتی میدان جنگ ثابت ہوگا۔

بائیڈن مہم کی مینیجرجولی شاویز روڈریگز اور مہم کے دیگر معاونین گذشتہ ماہ کے آخر میں ڈیٹرائٹ کے مضافاتی علاقوں میں گئے تھے، لیکن انہیں معلوم ہوا کہ کمیونٹی کے متعدد رہ نما ان سے ملنے کو تیار نہیں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں