کیا الدرعیہ مشرقی سعودی عرب کا پہلا تاریخی اور ثقافتی مقام ہے؟

سعودی مورخ کی الدرعیہ کے بارے میں دلچسپ اور معلومات افزاء گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

مشرقی سعودی عرب میں الدرعیہ میں قدیم ثقافتی آثارکے وجود کے بارے میں سچائی کی طویل تلاش جاری ہے۔ کھدائی کرنے والی ٹیموں نے اس سے قبل چودہ آثار قدیمہ کے مقامات کو ریکارڈ کیا تھا جوشاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع علاقے میں ریت کے ٹیلوں کے درمیان دمام شہرسے تقریباً 43 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اس علاقے میں پائے جانے والے نوادرات میں پتھرکی دیوارکی بنیادیں، پتھر کی کیرن کی باقیات، اسلامی قبروں کے آثار، قدیم کنوؤں کے آثار اور متعلقہ پانی کی نہریں شامل ہیں۔ ان کھنڈرات کے ارد گرد بکھرے ہوئے کئی قسم کے ٹوٹے ہوئے مٹی کے برتن ، چینی مٹی کے برتن اور کئی دوسری اشیاء ملی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ عباسی دور کے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ چوتھی صدی ہجری اور اس کے بعد کے ہیں۔ دوسری قسم کے غیر چمکدار مٹی کے برتن ساتویں، آٹھویں اور نویں صدی ھجری کے درمیانی اسلامی دور سے ملتے ہیں۔ مٹی کے برتنوں کے یہ تمام ٹکڑے مشرقی خطے کے دیگر آثار قدیمہ کے مقامات پر ان سے ملتے جلتے پائے گئے۔

اس وقت کی کھدائی کرنے والی ٹیموں کو آثار قدیمہ کا ایک ایسا مقام بھی ملا، جو تھوڑا سا بلندی پرتھا جو ریت سے گھرا ہوا سطح مرتفع پر تھا۔ اس کی سطح پر پتھروں کا ایک ٹیلہ نمودار ہوا جو شاید ایک کیرن، ملبے کی تدفین یا باقیات کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔ اس کے علاوہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک اور جگہ ملی جس میں مختلف سائز کے پتھر تھے۔ یہ پتھرسمندری وارنش کی قسم کے ہیں اور ان کے اجزاء میں چھوٹے فوسلائزڈ سیشیل اور گھونگے نمایاں ہیں۔ یہ جگہ پانی کی دلدل کی تہہ میں ہوسکتی ہے۔ مٹی کے برتنوں کا ایک گروپ اس کی سطح سے اٹھایا گیا تھا۔

ریکارڈ شدہ سب سے اہم آثار قدیمہ کا مقام ریلوے ٹریک کے مغرب میں واقع ہے کیونکہ اس میں کچھ آثار قدیمہ کی یادگاریں ملی ہیں جن میں سفید چونے کے پتھر کی گول شکل (ایک قدیم پانی کے کنویں کا ڈھکن) اور اسلامی قبروں کا ایک گروپ شامل ہے۔ سرخ مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے بھی سائٹ کی سطح سے لیے گئے تھے۔ یہ اس جگہ کے علاوہ ہے جو تیسری اور پانچویں صدی ہجری کے درمیان عباسی دور کے چمکدار اور غیر چمکدار مٹی کے برتنوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔

ان میں سے کچھ جگہوں پر چکمک پتھر کے ٹکڑے بھی ملے ہیں جو کہ پرماقبل تاریخ کے دورمیں پتھر کے اوزاروں کی تیاری کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، اسی طرح ماقبل تاریخ ادوار اور اس کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھنے والی قبروں کی شکل کے پتھر بھی موجود ہیں۔ مشرقی علاقے میں یبرین نخلستان اور دیگر مقامات پر پھیلی ہوئی اقسام سے ملتی جلتی ہے جو اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ اس جگہ پر اسلامی دور سے قبل قدیم زمانے میں انسانی آباد کاری ہوئی ہو گی۔

درعیہ سے جزیرہ نما عرب کے مرکز میں ڈھالوں کی منتقلی

اس تناظرمیں امام عبدالرحمٰن بن فیصل یونیورسٹی میں تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جملاء المری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ " نویں صدی ہجری کے وسط بہ مطابق پندرہویں صدی عیسوی میں پورے یمامہ کے علاقے میں استحکام پھیل گیا۔ بنی حنیفہ قبائل نجد میں واپس لوٹ آئے۔

حجر شہرکے حکمران بن درع اپنے چچا زاد بھائی مانع المریدی الحنفی جب جزیرہ نمائے عرب کے مشرق میں واقع اپنے قصبے درعیہ میں آئے تو وہ اپنے آباء و اجداد کے علاقے میں آباد ہونے کے لیے قبیلے کو لے کر کو وسطی نجد تک پہنچے۔ ان کی آمد کا مقصد علاقے میں استحکام لانا تھا۔

پہلی درعیہ سے جزیرہ نما عرب کے مرکز میں ڈھالوں کی منتقلی کے واقعات کے بارے میں ڈاکٹر المری نے کہا کہ "مانع المریدی اور اس کے قبیلے کے افراد جزیرہ نما عرب کے مشرق میں واقع درعیہ سے اس کے مرکزمیں منتقل ہوئے تھے۔ ابن درع نے اسے "غصیبہ" اور "الملیبد" کے مقامات عطا کیے جو حجر شہر کے شمال مغرب میں واقع ہیں۔اس نے "غصیبہ" کو اپنے اور اس کی حکمرانی کے لیے ہیڈ کوارٹر بنایا اور اس کے لیے ایک دیوار بنائی۔ اس نے "الملیبد" کو زراعت کا صدر مقام بنایا اور اسے اپنے قبیلہ الدروع کے نام کی نسبت درعی کا نام دیا۔ یہ 850 ہجری / 1446 عیسوی کا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ اپنے دورکا جزیرہ نما عرب کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ چنانچہ درعیہ کا ظہور عہد نبوت اور خلافت راشدہ کے بعد خطے میں وجود میں آنے والی ایک بڑی مملکت کے خشت اول بنا۔

تیزی سے بدلتے حالات اور درعیہ کے بعد وہاں ہونے والی ترقی بارے میں ڈاکٹر المری نے مزید کہا کہ"مانع نے درعیہ کی بنیاد رکھی تاکہ شہرایک ایسی ریاست ہو جو وقت کے ساتھ ساتھ پھیل سکے۔ مانع المریدی اوراس کے بعد کے اس علاقے کے حکمرانوں کے واقعات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں حکومت کے لیے ایک خاندانی حکمرانی کا آئین تھا۔اس حکومت نے ریاست اورعرب عنصر کے تصور پر توجہ مرکوز کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کو قبائلی جنون کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک عرب ریاست کی بنیاد پر بنایا گیا۔

مانع نے وہاں ایک مضبوط توسیع شدہ ریاست کی بنیادد رکھی جس کے بعد ان کے متعدد بیٹوں اور نواسوں نے اس کی امارت سنبھالی۔ امام محمد بن سعود نے 1139ھ / 1727 عیسوی میں پہلی سعودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اسی جگہ سے مملکت سعودی عرب کی بنیاد رکھی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں