آئی ایم ایف سربراہ کا اسرائیل غزہ جنگ، سعودی سیاحت اور مصری معیشت پر اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آئی ایم ایف کی مینجگ ڈائریکٹر کرسٹا لینا جارج جیوا نے اسرائیل غزہ جنگ کے تناظر میں 'عرب فیسکل فورم' سے خطاب کرتے ہوئے عالمی معاشی منظر نامے کے بارے میں اپنا جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اسرائیل غزہ جنگ، سعودی عرب میں سیاحت اور مصر کی معاشی صورتحال پر گفتگو کی۔

انھوں نے کہا موجودہ بےیقینی صورتحال کے باوجود وہ دنیا کے معاشی سطح پر مثبت اپروچ کے ساتھ چیزوں کو دیکھ رہی ہیں۔ دنیا میں افراط زر کی سطح میں آہستہ آہستہ کمی ہو رہی ہے اور نرم قرضوں کے لیے 2024 میں ماحول سازگار نظر آرہا ہے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ پچھلے سال معاشی بڑھوتری توقع سے زیادہ ہوئی تھی۔ اس لیے اس سال معاشی بڑھوتری کے لیے پروجیکشن 3 اعشاریہ ایک فیصد ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ کہنا کہ مکمل معاشی بحالی ہوجائے گی بہت عاجلانہ بات ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ برآمدات کرنے والے ملکوں میں ناہموار بڑھوتری مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ ہائیڈروکاربن کے معاملے میں پیش رفت کی رفتار سست رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا 'خطے میں تیل کی طلب میں کمی وسط مدتی بنیادوں پر معاشی چیلنجوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔'

آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے اسرائیل غزہ جنگ کے تباہ کن معاشی اثرات کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کی۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے تو فلسطین کی معاشی خرابی بڑھے گی۔ اس مسئلے کا حل صرف سیاسی ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں