فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کا غزہ میں اونروا کے ہیڈ کواٹر کے نیچے سرنگوں کا دعویٰ، ایجنسی کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے ’اونروا‘ کے ہیڈ کوارٹر کے نیچے سرنگیں دریافت کی ہیں اور دعویٰ کیا کہ حماس کے کارکنان سرنگوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر کا استعمال کرتے تھے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ وہ غزہ شہر میں ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر کے نیچے سرنگ کی موجودگی کے بارے میں اسرائیلی رپورٹس کی تصدیق یا تبصرہ نہیں کر سکتے۔

لازارینی نے ایکس پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا کہ ایجنسی کے ملازمین گذشتہ 12 اکتوبر سے ہیڈ کوارٹر چھوڑ چکے ہیں۔ اس لیے انہیں معلوم نہیں کہ نیچے کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ"جب سے ہم نے اسے چھوڑا ہے ہم نے غزہ میں مرکزی ہیڈکوارٹر کو استعمال نہیں کیا ہے۔ ہمیں وہاں کسی بھی سرگرمی کے بارے میں علم نہیں ہے"ْ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے ہیڈ کواٹر کے نیچے مبینہ سرنگ کے بارے میں ایجنسی کو باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا۔

لازارینی نے زور دے کر کہا کہ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کے نیچے ایک سرنگ کی موجودگی کے بارے میں میڈیا رپورٹس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ جو کہ فی الحال نہیں کی جا سکتی۔ ایجنسی کی عمارتوں کا آخری باقاعدہ معائنہ گذشتہ ستمبر میں ہوا تھا۔

سرنگوں کی دریافت اسرائیل کی جانب سے بحران زدہ ایجنسی کے خلاف شروع کی گئی مہم کا تازہ ترین باب ہے، جس پر اس نے حماس کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا ہے۔

حالیہ اسرائیلی الزامات میں کہا گیا تھا کہ اونروا کے دس ملازمین نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں حصہ لیا تھا۔ ان الزامات کے بعد اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا جب بڑے عطیہ دینے والے ممالک نے تحقیقات کرنے کے علاوہ اپنی فنڈنگ معطل کر دی۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس کا بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کر دیا۔ امداد کی ترسیل پر پابندی لگا دی اور اس کے ٹیکس فوائد کو منسوخ کر دیا۔

فوج نے جمعرات کو صحافیوں کو سرنگ کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا کہ حماس کے جنگجو اونروا سہولت کے تحت سرنگوں میں کام کر رہے تھے لیکن اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کم از کم سرنگ کا کچھ حصہ سہولت کے صحن کے نیچے سے گذرا ہے۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ ہیڈ کوارٹر سرنگوں کو بجلی فراہم کر رہا تھا۔
اونروا کا کہنا ہے کہ اسے زیر زمین سہولت کے وجود کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے، لیکن اس کی "آزادانہ تحقیقات" کی جانی چاہیے۔ فی الحال ایجنسی ایسا کرنے سے قاصر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں