مشرق وسطیٰ

تین تاریک آپشنز، رفح کے بے گھر فلسطینی کہاں جا سکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر مسلط اسرائیلی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں اسرائیلی فوج جنوبی شہر رفح میں حماس کے خلاف فوجی آپریشن کی تیاری کر رہی ہے۔

مگر وہاں مسئلہ یہ ہے کہ رفح کا علاقہ غزہ بھر کے بے گھر 13 لاکھ فلسطینیوں کا عارضی ٹھکانہ ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

رفح شہر کا رقبہ 151مربع کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے جب کہ یہاں پر موجود لاکھوں لوگوں کے پاس کوئی متبادل آپشن نہیں ہے۔

اسرائیل کی جانب سے حماس کے رہ نماؤں کی تلاش کے مشن میں اگلا ہدف رفح شہر کو قرار دیا جا رہا ہے جس کے چپے چپے پر بے گھر لوگ خیمہ زن ہیں۔ اسرائیلی فوج کے بہ قول رفح حماس کا آخری گڑھ ہے جہاں حماس کی قیادت ممکنہ طور پر روپوش ہو سکتی ہے۔

خاص طور پر چونکہ ان کے پاس دوبارہ نقل مکانی کا کوئی منطقی متبادل نہیں ہے تو رفح کے بے گھر اب مزید کہاں جا سکتے ہیں۔

رفح میں بے گھر ہونے والے کی خیمہ بستی
رفح میں بے گھر ہونے والے کی خیمہ بستی

تین متبادل!

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ رفح میں جمع لاکھوں لوگوں کے پاس ممکنہ طور پر شمالی غزہ کا علاقہ ایک متبادل ہوسکتا ہے مگر بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایسا ناممکن ہے کیونکہ شمالی غزہ کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا ہے۔

جنوبی غزہ میں رفح کا علاقہ : اے پی
جنوبی غزہ میں رفح کا علاقہ : اے پی

بین الاقوامی تعلقات کے ایک محقق احمد سید احمد نے اتوار کے روز العربیہ /الحدث کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اس تجویز کا مکمل امکان نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ساتھ ان کی فوج کے کمانڈروں نے ماضی میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب تک اسرائیلی آباد کار غزہ کی پٹی میں واپس نہیں آتے تب تک شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی واپسی نہیں ہو گی۔

تجزیہ نگاروں نے مشورہ دیا کہ رفح شہر کا انتہائی شمال بے گھر ہونے والوں کو اس کی طرف دھکیلنے کے لیے ایک معقول تجویز ہوگی۔ تاہم مصری محقق نے کہا کہ یہ علاقہ بہت تنگ ہے اور کسی بھی طرح سے دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے وہاں گنجائش نہیں ہو سکتی۔

مصری سرحد کی طرف

انہوں نے نشاندہی کی کہ تیسری تجویز جس کی تل ابیب بہ ظاہر منصوبہ بندی کر رہا ہے اس میں فلسطینیوں کو مصری سرحد بالخصوص سیناء کی طرف دھکیلنا بھی شامل ہے۔

تاہم سید احمد نے یاد دلایا کہ قاہرہ نے بارہا اس امکان کو مسترد کیا ہے۔ مصر7 اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے بار بار فلسطینیوں کی اپنی سرزمین کی طرف نقل مکانی کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

مصری افواج نے بھی حال ہی میں غزہ کی پٹی کے ساتھ سرحد کی طرف مزید کمک بھیجی ہے۔

دریں اثنا اگر رفح پر اسرائیلی فوج حملہ کرتی ہے اور فلسطینیوں کو وہاں سے مصری سرحد کی طرف دھکیلا جاتا ہے تو ایسے حالات میں قاہرہ نے اسرائیل کے ساتھ "کیمپ ڈیوڈ" معاہدے کو معطل کرنے کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مزید تفصیلات بتائے بغیر بے گھر افراد کے لیے محفوظ راستے فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے رفح میں فوج داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی فوج کا اس شہر میں داخل ہونے سے گریز حماس کے سامنے ہتھیار ڈالنا، یا پوری جنگ کا نقصان بھی تصور کیا جائے گا۔

کل ہفتے کے روز حماس نے رفح میں "قتل عام" کے بارے میں خبردار کیا تھا جو کہ جنوبی غزہ میں دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے آخری پناہ گاہ بن گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں