رفح پر اسرائیلی جارحیت سے یرغمالیوں کی رہائی کےلیے مذاکرات ختم ہوکررہ جائیں گے:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے سرحدی شہر رفح پر اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کی جارحانہ حکمت عملی کے نتیجے میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے سلسلے میں جاری مذاکرات ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ یہ بات حماس کے زیر اثر چلنے والے 'اقصی' ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔ 'اقصی' ٹی وی نے یہ بات حماس کے ایک سینیئر رہنما کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رفح سے فلسطینی شہریوں کے انخلاء کے لیے منصوبہ بنائے۔ تاکہ رفح میں موجود حماس کی 4 بٹالینز کا خاتمہ کیا جا سکے۔

واضح رہے 4 ماہ سے زائد عرصہ پر پھیلی اسرائیلی بمباری اور اسرائیلی فوج کے احکامات کے ذریعے غزہ کی تقریبا نصف آبادی کو پہلے رفح کی طرف دھکیلا گیا۔ جہاں وہ اس وقت تقریباً 13 لاکھ کی تعداد میں نقل مکانی کی زمدگی گزار رہے ہیں۔

پچھلے چند دنوں سے رفح کے لیے اسرائیلی فوج کے زیادہ جارحانہ عزائم سامنے آئے ہیں اور بمباری کر کے رفح میں موجود لاکھوں فلسطینیوں کو مصر کی طرف دھکیلنے کی غیر اعلانیہ کوشش جاری ہے۔ مصر کی طرف سے اسرائیل کی ان جارحانہ کوششوں کے جواب میں کہا گیا ہے اگر فلسطینیوں کو مصر کی طرف دھکیلا گیا تو مصر اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدات ختم کر دے گا۔

اسرائیل کی غزہ میں جنگ کا پانچواں مہینہ جادی ہے۔ اس دوران وہ ایک طرف اپنے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ بالواسطہ طور پر مذاکرات کر رہا ہے اور دوسری جانب نہ صرف اس نے رفح سمیت پورے غزہ میں بمباری و حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہسپتالوں پر حملے کر رہا ہے اور امدادی سامان کی ترسیل میں رخنے ڈال رہا ہے۔ بلکہ اب رفح سے بھی آگے فلسطینیوں کو مصر کی طرف دھکیلنے کی پالیسی کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں