ریاض خلائی ملبہ کانفرنس:’ہم ماہرین کی میٹنگ نہیں بلکہ چیلنجز سے نمٹے کی پکار ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے کمیونیکیشنز، اسپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کے گورنر ڈاکٹر محمد التمیمی نے کہا ہے کہ ریاض میں ’خلائی ملبہ کانفرنس‘ ماہرین کی میٹنگ نہیں، بلکہ اس سلسلے میں چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی دعوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی خلائی ایجنسی خلائی ملبے کے خطرات کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔

انہوں نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے اپنے خطاب کے دوران وضاحت کی کہ دُنیا اگلے چھ سالوں کے دوران 30,000 سے زائد سیٹلائٹس لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ تعداد گذشتہ ساٹھ برسوں کے دوران لانچ کیے جانے والے سیٹلائٹس کی تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔ان میں 12,000 سیٹلائٹس شامل ہیں جن میں 9,000 فعال سیٹلائٹس ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 2030ء تک بھیجے جانے والے مصنوعی سیاروں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو خلائی ملبے میں اضافہ ہوگا۔ ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلا میں 34 ہزار سے زائد ٹکڑے ہوں گے۔ان ٹکڑوں میں ملبے کے ٹکروں کا سائز 6 میٹر سے زیادہ گا۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ ٹکڑوں کا سائز 1 سے 10 سینٹی میٹر ہوسکتا ہے اور 130 ملین ٹکڑوں کا سائز ایک سینٹی میٹر سے بھی کم ہوگا۔ یہ تعداد وقت کے ساتھ بدل جائے گی۔ یہ ایک چیلنج ہے جس کامقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نےکہا کہ سعودی خلائی ایجنسی ان خطرات کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کرم کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس حوالے سے کانفرنس میں ایک یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، جس میں کانفرنس میں شرکت کرنے والوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعاون کریں تاکہ محفوظ اور زیادہ مستحکم خلائی مداروں کے حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں