غزہ جنگ پر40 بلین ڈالرخرچ، اسرائیل میں متوقع بجٹ خسارہ 6.6 فیصد تک بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں مالی سال 2024ء کے بجٹ کے ایک نظرثانی شدہ مسودے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ خسارہ رواں سال کے دوران مجموعی گھریلو پیداوار کے 2.25 فیصد سے بڑھ کر 6.6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جو غزہ میں جاری جنگ کے 100 ویں دن میں داخل ہونے کے موقع پر جاری کیا گیا ہے۔

آج اتوار کو حکومتی وزراء ایک نظرثانی شدہ بجٹ پر بحث شروع کریں گے جس میں اس جنگ کی مالی اعانت کے لیے بڑے اخراجات شامل ہوں گے جس میں غزہ جنگ کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ کل پیر کو اس پر ووٹنگ متوقع ہے۔

بجٹ کے مسودے کے مطابق 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ سے رواں سال اقتصادی ترقی میں 1.1 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہو گی جو گذشتہ سال 1.4 فیصد پوائنٹس ریکارڈ کی گئی تھی۔

جنگ کے مالیاتی اثرات کا تخمینہ 2023-2024 کی مدت میں تقریباً 150 ارب شیکل (40.25 بلین ڈالر) لگایا گیا ہے۔ اسرائیل کو توقع ہے کہ شدید لڑائی اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ختم ہو جائے گی۔

گذشتہ سال دسمبر میں ریکارڈ کیا گیا خسارہ 33.8 بلین شیکل (9 ارب ڈالر) تھا جو پچھلے سال 18.5 ارب کے مقابلے میں تھا، کیونکہ جنگ پر اخراجات 17.2 بلین شیکل تھے جبکہ ٹیکس کی آمدنی میں 8.4 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔

گذشتہ بدھ کو اسرائیل کے مرکزی بینک کے گورنر امیر یارون نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط کی پابندی کرے اور کچھ ٹیکسوں میں اضافہ کرتے ہوئے غیر ضروری شعبوں میں کٹوتیوں کے ذریعے منصوبہ بند اخراجات کی تلافی کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں